سعودی عرب انسانی حقوق کی پامالی کامرکز
ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں سعودی عرب کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شامل کرنے کے اقدامات کی مذمت کی ہے
ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں سعودی عرب کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شامل کرنے کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن کےنہتے شہریوں پر حملے کرنے خاص طورسے صنعا میں انسانیت سوز جرم کے ارتکاب کی وجہ سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شامل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کل جمعے کو انسانی حقوق کونسل میں رکنیت کے سلسلے میں ووٹنگ کرائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کی حکومت دیڑھ سال سے یمن کے عوام کو اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنارہی ہے۔اور اس نے تین ہفتے قبل ایک غیر انسانی اقدام کرتے ہوئے صنعا میں ایک مجلس ترحیم پر بمباری کی تھی جس میں سات سو سے زیادہ افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ ارض وحی کے باشندوں کے خلاف آل سعود کی مجرمانہ کاروائیوں میں توسیع آئی ہے اور سعودی کال کوٹھری میں ایک سیاسی رہنما کے جاں بحق ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔سعودی عرب کی جیل میں جان بحق ہونے والے اس سیاسی رہنما کو جسمانی ایذائیں پہنچائی گئی تھیں۔ واشنگٹن میں خلیج فارس تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ علی الاحمد نے اپنے ٹوئیٹر اکاوئنٹ پر لکھا ہے کہ شہر جدہ سے انیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ذھبان جیل میں حنان الذبیانی جان بحق ہوگئے ہیں۔ یاد رہے آل سعود کی جیلیں سیاسی قیدیوں کی قتل گاہ میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ سعودی عرب میں گھٹن کی فضا میں شدت آئی ہے اور سعودی عرب کی حکومت اس ملک کے شہریوں کے حقوق پامال کررہی ہے۔ عالمی سطح پر آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی خبریں پھیل رہی ہیں۔ آل سعود کے اقدامات سے جو عوام کو کچلنے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے، سعودی عرب انسانی حقوق کی پامالی کا ایک گڑھ بن چکا ہے۔
آل سعود کے مخالفین نے اعلان کیا ہے کہ آل سعود نے تیں ہزار سیاسی رہنماوں کو اپنی کال کوٹھریوں میں بند کررکھا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ آل سعود کی حکومت سعودی قیدیوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہےکہ سعودی عرب کی حکومت عوام کے خلاف کس قدر شدید پالیسیاں رکھتی ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے حکام جسمانی ایذاؤں کے سہارے عوام کو خاموش کرنا چاہتے ہیں اور رعب و وحشت پھیلا کر گھٹن کے ماحول کو مزید سنگین بنانا چاہتے ہیں تا کہ کوئی بھی آل سعود کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ایسے عالم میں جبکہ انسانی حقوق کے حلقے عالمی اداروں سے آل سعود کی قرون وسطی کی پچھڑی ہوئی حکومت کے غیر انسانی اقدامات کا نوٹس لینے کے خواہاں ہیں اھل عالم کو یہ سن کر دھچکا پہنچا ہے کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں دوبارہ شامل ہونا چاہتی ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی کونسل رائے عامہ کے مطالبے کے باوجود سعودی عرب کی رکنیت معطل کرنے سے گریز کررہی ہے اور سعودی عرب بدستور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بنا ہوا ہے۔ یہ ایسے حالات میں ہے کہ سعودی عرب میں آپ کو انتخابات، سیاسی پارٹیاں، میڈیا کی اور جرائد کی آزادی جیسی جمہوریت کی کوئی علامت نہیں دکھائی دیے گی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کی رکنیت اور دوبارہ اسے رکن بنانے کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اس کونسل میں سارے کام سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور یہاں پر انسانی حقوق کو برح طرح مسخ اور اس میں تحریف کردی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہےکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق میں صرف سیاسی اھداف کی بنا پر کام کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس کمزور موقف سے انسانی حقوق پامال کرنے میں سعودی حکام مزید گستاخ ہوتے جائیں گے۔