عرب ملکوں کی امریکہ اور مغربی ملکوں سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری
کویت کے اخبار الرای نے لکھا ہے کہ حکومت امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن خلیج فارس کے عرب ممالک سے فوجی تعاون بڑھانے اور بڑے معاہدوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کو مزید ہتھیار فروخت کرے گا۔
کویتی اخـبار کے مطابق واشنگٹن نے دعوی کیا ہے کہ امارات کے لئے امریکہ کے ہتھیار علاقے میں دہشتگرد گروہ داعش کے مقابلے کے لئے ہیں اور اسی تعاون کی اساس پر واشنگٹن اور ابو ظہبی کے تعلقات میں توسیع آئے گی۔ امریکہ اور کویت سمیت خلیج فارس کے دیگر عرب ملکوں کے درمیان وسیع فوجی تعاون ہے اور اس نے اس فوجی تعاون کے لئے دہشتگردی سے مقابلے کو بہانہ بنا رکھا ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ علاقے بالخصوص شام و عراق میں تکفیری دہشتگردوں کو بعض مغربی ممالک اور خلیج فارس کے عرب ممالک سے ہتھیار ملتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں قطر اور علاقے کے دیگر عرب ملکوں نے اپنی تیل کی خطیر آمدنی سے وسیع پیمانے پر مغربی ملکوں سے ہتھیار خریدے ہیں۔
خلیج فارس کے عرب ممالک ایسے عالم میں مغربی ملکوں سے وسیع پیمانے پر ہتھیار خرید رہے ہیں کہ حالیہ برسوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے یہ ممالک شدید مالی بحران سے بھی دوچار ہیں۔اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کی وزارت انرجی نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں دنیا کی اوسط قیمت کی اساس پر اضافہ ہوگا۔ امارات کی حکومت نومبر سے ایندھن کی قیمت میں اضافہ کرے گی۔
متحدہ عرب امارات اور خلیج فارس تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کی وجہ سے مختلف طرح کے مسائل سے دوچار ہیں، اسی سلسلے میں آئی ایم ایف نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجٹ خسارے کا شکار ہے اور دوہزار نو سے اس سال کا بجٹ خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا بجٹ خسارہ امارات کی حکومت کے لئے چیلنج بن گیا ہے کیونکہ اس سے ملک کی جی ڈی پی بھی مثاثر ہوجائے گی۔ اس صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ عرب ملکوں کے قرضے میں دوہزار بیس تک اضافہ ہوتا رہے گا۔ یاد رہے متحدہ عرب امارات ان عرب ملکوں میں سے ہے جو سب سے زیادہ مقروض ہے۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہنے اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کی آمدنی میں کمی کے باعث ان کا داخلی اور بیرونی قرضہ چورانوے ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا البتہ موجودہ حالات میں یہ ممالک اپنے اس قرضے کو ادا کرنے سے عاجز ہیں۔
خلیج فارس کے عرب ممالک کی معیشت تیل کی برآمدات پر مبنی ہے۔سعودی عرب سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے،امارات کا شمار بھی تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں ہوتا ہے۔ روس اور اسلامی جمہوریہ ایران گیس برامد کرنےوالے سب سے بڑے ممالک اور اس کے بعد قطر کا نمبرآتا ہے۔ مغربی ملکوں کی جانب سے خلیج فارس کے عرب ملکوں کو ہتھیار بیچنے کا ایک اور بہانہ ایرانو فوبیا ہے۔ ایک طرف سے امریکہ اور مغربی ممالک عرب ملکوں کو ہتھیار خریدنے پر مجبور کرتے ہیں تو دوسری طرف خلیج فارس کے ڈکٹیٹر ملکوں کی حمایت بھی کرتے ہیں اور اس فریبکارانہ پالیسی کے تحت ان کے ہاتھوں اپنے ہتھیار فروخت کردیتے ہیں۔ واضح رہے ہتھیاروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی اورسرگرمیاں خود اپنی نوعیت کی ایک معیشت ہے۔انسانی حقوق کا دعوی کرنے والے مغربی ممالک کو موت کی تجارت کرکے عرب ملکوں سے بے پناہ پیسہ ملتا ہے۔ عرب ملکوں کو ہتھیار فروخت کرنے کی دوڑ سے ثابت ہوتا ہے کہ مغربی ممالک خلیج فارس کے عرب ملکوں میں جمہوریت بحال کرنے سے زیادہ ہتھیار فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔