منصفانہ معاہدے کے لیے جنیوا آئے ہیں،دھمکیوں کے آگے سرنہیں جھکائيں گے: سید عباس عراقچی
ایرانی وزير خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حقیقی جدت عمل کے ساتھ منصفانہ اور متوازن سمجھوتے کے حصول کے لئے جنیوا آيا ہوں اور جو چیز ہرگز ہمارے ایجنڈے میں نہيں ہے وہ دھمکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنا ہے ۔
سحرنیوز/ایران: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ سید عباس عراقچی نے جو گذشتہ رات ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کی غرض سے جنیوا پہنچے ہيں ، آج تفصیل سے سفارتی صلاح و مشورے کريں گے کہ جو ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ مذاکرات کا یہ دور منگل کو عمان کی ثالثی میں ہوں گے۔
اس تناظر میں سید عباس عراقچی ، عمان کے وزيرخارجہ بدر البوسعید سے ملاقات و گفتگو کریں گے ۔ یہ ملاقات ہر دور کے مذاکرات کے پہلے معمول کا حصہ رہی ہے اور اس کا مقصد تہران و واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے حتمی ہماہنگی پیدا کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی ہے یہ ملاقات ایران اور ایجنسی کے درمیان تکنیکی اور ریگولیٹری مشاورت اور جوہری فائل سے متعلق اہم ملاقاتوں کے موقع پر ہوئی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
اس گفتگو میں، تکنیکی تعاون کی تازہ ترین صورتحال، سیکورٹی امور اور ایران و آئي اے ای اے کے درمیان باہمی اشتراک عمل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا
تہران نے ہمیشہ اپنی قانونی ذمہ داریوں کے دائرے میں تعاون کو جاری رکھنے اور تکنیکی مسائل پر سیاسی نقطہ نظر سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ارنا کو انٹرویو میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ تہران کو مذاکرات کو طول دینے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، کہا کہ ہم مذاکرات کے اس دور میں ایک مکمل سیاسی، قانونی، اقتصادی اور تکنیکی ٹیم کے ساتھ موجود ہوں گے، لہذا تمام ماہرین اور نمائندے جو ہمارے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کرنے اور فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہیں، وہ موجود ہوں گے۔
اسماعیل بقائي نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مذاکراتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے تاکید کی کہ تہران کم سے کم وقت میں مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا چاہتا ہے اور اسی بنا پر پوری طرح سے ایک سیاسی ، تکنیکی ، قانونی اور اقتصانی ٹیم کے ساتھ جنیوا میں موجود ہے ۔
مسقط میں پہلے دور کے بعد ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور اس بار جنیوا میں سیاسی اور صحافتی حساسیت کے ماحول میں منعقد ہوگا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے قبل ہونے والی مشاورت ایجنڈے کے فریم ورک کا خاکہ تیار کرنے اور فریقین کے درمیان ابتدائی اختلافات کو کم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
امریکی صدر کے خصوصی نمائندے اسٹیو ویٹکاف اور ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میز ایسی حالت میں تیار کی گئی ہے کہ فریقین نے مسقط میں ہونے والے پہلے دور کو بہترین لیکن ابتدائی قرار دیا ہے ۔