Nov ۱۳, ۲۰۱۶ ۱۶:۲۹ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف سعودی عرب اور اسکے پٹھوؤں کی سازشیں

کچھ دنوں سے سعودی عرب سے وابستہ حلقوں نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے نئے اقدامات شروع کئے ہیں۔

 کچھ دنوں سے سعودی عرب سے وابستہ حلقوں نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے نئے اقدامات شروع کئے ہیں۔ ایران پر علاقے کے ملکوں میں مداخلت پر مبنی الزام اور اپنے مسائل کا دوسروں کو ذمہ دار ٹہرانا بار بار کے الزامات ہیں، ان میں خلیج فارس میں ایران کے تین جزیروں سے متعلق دعوے بھی ہیں۔

سعودی عرب اور امارات اور خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں نے سوڈان، مصر، مراکش، اردن اور یمن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہفتے کو ایک خط جاری کرکے ایران پر الزام لگایا ہے کہ ایران نے علاقے میں توسیع پسندانہ اور کشیدگی پھیلانے کی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں۔ اس خط میں ایران پر یہ بھی الزامات لگائے گئے ہیں کہ ایران دہشتگردی کی حمایت کررہا ہے اور ایران نے خلیج فارس میں امارات کے تین جزائر پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان الزامات کے سہارے ایران کے خلاف پروپگینڈا کیا جارہا ہے۔

یہ خط دراصل ایک طرح سے حقائق سے فرار اور ان جھوٹے دعووں کے پیچھے خود کو چھپانے سے عبارت ہے جن سے سعودی عرب اور اسکے پٹھو ملکوں کی ناکامی کا اظہار ہوتا ہے۔

سعودی عرب اس وقت یمن کے دلدل میں پھنس گیا ہے اور ایسی جنگ میں مبتلا ہے جسے اس نے خود شروع کیا تھا۔بحرین میں بھی سعودی عرب کو فوجی مداخلت کرکے عوام کو کچلنے اور انسانی حقوق کی رسوائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اب ان کی نظر میں صرف ایک راہ رہتی ہے جس سے وہ رائے عامہ کو حقائق سے دور رکھ سکتے ہیں یعنی ایرانوفوبیا کو ہوا دینا ہے۔ خلیج فارس کی تاریخ کو تحریف کرنا اور متحدہ عرب امارات کا یہ بے بنیاد دعوی کہ ایران نے اس کے تین جزیروں پر قبضہ کررکھا ایران کے اقتدار اعلی پر حملہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ان دعووں کے ساتھ متحدہ عرب امارات بھی سیاسی کھیل میں شامل ہوگیا ہے۔

قرائن سے پتہ چلتا ہےکہ یہ پروپگینڈا اب اپنے معمول کے خول سے باہر نکل گیا ہے اور علاقے کے جیو پالیٹیکل مسائل میں داخل ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کی سرکردگی میں یہ گروہ پورے علاقے کو بحران سے دوچار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کو کشیدگی میں شدت لانے اور علاقے میں بحران پیدا کرنے سے کوئی فائدنہیں پہنچے گا۔لیکن سعودی عرب دہشتگردوں کی حمایت کرکے اپنے سیاسی اھداف حاصل کرنا ہے تاہم عراق اور شام و یمن میں اسے بری طرح شکست ہوئی ہے، سعودی عرب فرقہ وارانہ نفرت پھیلا رہا ہے لیکن خود اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کو روند رہا ہے اور عدم استحکام کا شکارہوچکا ہے۔ سعودی حکام علاقے میں صف آرائی کراکر اپنے اشتعال انگیز اقدامات پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے اور خود جن بحرانوں کے ذمہ دار ہیں اس کا الزام ایران پر لگادیں۔سعودی حکام یہ کوشش کررہے ہیں کہ اس پروپگینڈے اور شوروغل سے اپنے لئے موقع تلاش کریں تاکہ اس کے سہارے یمن میں عوام بالخصوص بچوں کے قتل عام کی وجہ اور دہشتگردوں کی حمایت سے اس پر جو الزام عائد ہوتے ہیں ان سے پیچھا چھڑا سکیں۔

سنہ دو ہزار ایک میں سعودی عرب نے یمن کے شہریوں کو کچلنے کے لئے جو آل خلیفہ کی غیر منصفانہ اور تعصب آمیز پالیسیوں کے خلاف تحریک چلارہے ہیں اپنے فوجی بھیج رکھے ہیں اور ایران یا کسی اور ملک کی جانب سے بحرینی قوم کی حمایت کو غیر تعمیری مداخلت اور تشدد کو بڑھاوا دینے والا عامل قراردیتے ہیں۔ سعودی حکام کی نظر میں سعودی عرب کی فتنہ انگیزی اور دہشتگردوں کی حمایت اور ان کی ٹریننگ اور ان کی مالی حمایت کرنا اور انہیں علاقائی ملکوں کے استحکام و سکوریٹی متزلزل کرنے پر اکسانا صحیح اقدامات ہیں۔

ان اقدامات اور مواقف کو سفارتی سطح پر نارمل اقدامات نہیں کہا جاسکتا۔ سعودی عرب نے خیلج فارس تعاون کونسل کے دوسرے ملکوں کے ہمراہ عراق کے سابق خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی تھوپی ہوئی جنگ کے زمانے میں تیل سے ہونے والی آمدنی کو ایران کے خلاف اور ایران دشمنی پر خرچ کیا تھا اور جب صدام نے کویت پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کرلیا تو ان ملکوں نے صدام کی حمایت اور ایران کی مخالفت پر اظہار پشیمانی کیا لیکن بظاہر اب اپنا ماضی بھول گئے ہیں اور خود کو ایسی پوزیشن میں پاتے ہیں کہ انہیں بقول خود ایران کی طرف سے لاحق نام نہاد خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ مجموعی طورپر یہ اقدامات اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ ایران اور علاقے کے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے کی گئی منصوبہ بندی ہے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور بعض دیگر عرب ملکوں کا اقوام متحدہ میں خط بھی اس قانون سے مستثنی نہیں ہے۔اس چال سے شاید سعودی عرب اور اسکے پٹھووں کو کچھ دنوں تک تشہیراتی خوراک مہیا ہوسکے لیکن اس طرح کے سیاسی مواقف ناقص اور تضادات سے بھرے ہوتے ہیں اور عالمی قوانین کے برخلاف ہیں اور ایسی چالیں چلنے والے یقینا سیاسی کھیلوں میں ہار جاتے ہیں۔