Nov ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۶:۰۲ Asia/Tehran
  • مصر کے خلاف سعودی عرب کے ارضی دعوے

سعودی عرب کی جانب سے مصر کے خلاف ارضی دعووں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور سعودی عرب تاریخی واقعات میں تحریف کرنے کے لئے پروپیگنڈے کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے دعوی کیا ہے کہ تیران اور صنافیر نامی جزائر کے سعودی ملکیت ہونے کی دستاویزات کی تاریخ، عثمانی دور تک جاتی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ مصر میں سابق صدارتی نامزد اور عوامی گروہ کے بانی حمدین صباحی نے واضح طور پر سعودی وزیر خارجہ کی بات مسترد کی ہے اور کہا ہے کہ انیس سو چھے میں عثمانی حکومت اور مصر کے مابین معاہدے کے مطابق جزائر تیران اور صنافیر مصر کی سرزمین کا حصہ ہیں۔

سعودی عرب کے ارضی دعوے ایسے عالم میں ہیں کہ حال ہی میں مصر کی عدالت نے ایک فیصلہ سنایا تھا کہ جزائر تیران اور صنافیر مصرکی سرزمین کا حصہ ہیں۔ مصری عدالت نے اس معاہدے کو کالعدم قرار دیا ہے جس میں مصر اور سعودی عرب کے درمیان آبی سرحدوں کی حد بندی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تیران اور صنافیر جزیرے سعودی عرب کو دے دئے گئے ہیں۔ مصری عدالت کے اس فیصلے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں سعودی عرب کے ارضی دعووں پر شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپریل دو ہزار سولہ میں مصر کا دورہ کیا تھا جو کافی متنازعہ رہا تھا۔ اس دورے میں حکومت مصر نے ایک معاہدہ کیا تھا جس میں تیران اور صنافیر جزیروں کو سعودی عرب کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ جو مصر اور سعودی عرب کی آبی سرحدوں کی حد بندی کے لئے طے پایا تھا، اس پر مصری حلقوں نے کافی سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ مخالف دھڑوں نے حکومت مصر کے اس اقدام پر مظاہرے کئے تھے اور عبدالفتاح السیسی نے سکیورٹی نقطہ نظر سے ان مظاہروں کو کچل کر ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا تھا یہانتک کہ کچھ مظاہریں جاں بحق اور زخمی بھی ہوئے تھے۔

یہ احتجاج مصر کے دوسرے طبقوں تک بھی سرایت کر گیا۔ میڈیا رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فوج میں بھی عبدالفتاح سیسی کی کارکردگی بالخصوص ان کے ہاتھوں وطن کی سرزمین کو فروخت کرنے کے اقدام پر بے چینی پائی جاتی ہے۔ مصر کے صدر السیسی نے مخالفتوں کو سرکوب کرتے ہوئے فوجی بغاوت کا بہانہ کر کے کئی اعلی فوجی افسروں گرفتار کرلیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان افسروں نے جزائر تیران اور صنافیر کے سعودی عرب کو دئے جانے پر احتجاج کیا تھا۔ السیسی حکومت کا یہ اقدام ایک تازہ سکیورٹی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مصری عوام اس بات سے آگاہ ہیں کہ جزائر تیران اور صنافیر ان کی سرزمین کا حصہ ہیں۔ وہ اس عجیب مراعات سے نہایت تعجب میں ہیں جو جنرل السیسی نے سعودی عرب کو دی ہے۔ عوام برہم ہیں اور انہوں نے اپنی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ عوام اور سیاسی رہنما اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت مصر کی مالی ضرورتوں سے آگاہ اور واقف ہونے کی بنا پر اس سے غلط فائدہ اٹھا رہی ہے۔

مصر کی رائے عامہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سعودی عرب اور مصر کا حالیہ معاہدہ جو سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ مصر کے دوران طے  پایا تھا اور جس کے بارے میں دونوں ملکوں نے بے حد پروپیگنڈا بھی کیا تھا نیز اس کے علاوہ دوسرے معاہدے بھی بالخصوص تیران اور صنافیر جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کئے جانے کا معاہدہ علاقے میں مصر کی پوزیشن کو کمزور بنانے اور حکومت کی طرف سے اس کمزوری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ معاہدہ مصر کے آئین کی شق ایک سو اکاون کے خلاف ہے جس کے مطابق ملک کے اقتدار اعلی کے بارے میں تمام معاہدوں کو ریفرینڈم میں منظوری ملنی چاہیے۔

تازہ حالات سے سے بظاہر مصر کی حکومت سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے اور مصر کی اس پسپائی سے سعودی حکومت چراغ پا ہو گئی ہے۔ مصر کے خلاف سعودی عرب کے ارضی دعوے مصری حکام کو اپنے سامنے جھکانے کی غرض سے سامنے آ رہے ہیں۔