ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری
ایسی حالت میں کہ جب حکومت ہندوستان، اپنے زیرانتظام کشمیر کے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات عمل میں لاکر اس علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، عام احتجاج کے نئے دور کے آغاز کو پانچ ماہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بدامنی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ہندوستان کی سیکورٹی فورسز، حریت کانفرنس کے رہنماؤں پر پابندیاں عائد اور انھیں گرفتار کر کے عام احتجاجات کا سلسلہ روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں منگل کے روز ہونے والے مظاہرے کے دوران دسیوں کشمیریوں منجملہ ایک کشمیری رہنما یاسین ملک کو گرفتار کر لیا گیا۔ کشمیر کے مختلف علاقوں میں خاردار تار لگانا، چیک پوسٹوں کا قیام اور سیکورٹی فورسز کی موجودگی، ایک معمول کے عمل میں تبدیل ہوگئی ہے۔ یاسین ملک نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کشمیری عوام ہندوستان سے آزادی کے خواہاں ہیں تاہم نئی دہلی کی حکومت ان کے حق کو تسلیم نہیں کرتی، تاکید کے ساتھ کہا کہ کشمیری عوام کی پرامن تحریک کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔
حالیہ دو برسوں کے دوران جب سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو قوم پرست جماعت، بی جے پی کی شمولیت سے ریاستی حکومت قائم ہوئی ہے، مخالف کشمیری گروہوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے حملے تیز ہو گئے ہیں۔ یہ جماعت، جو قومی سطح پر بھی ہندوستان کی اقلیتوں منجملہ مسلمانوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کئے ہوئے ہے، کشمیر کے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات اور مخالفین سے سختی سے نمٹنے کو ہی امن کی برقراری کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں امن کی برقراری کا یہ طریقہ، کارآمد واقع نہیں ہوا ہے اور نئی دہلی کی حکومت بحران کا رخ موڑ کر جموں و کشمیر میں بدامنی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ نے حال ہی میں بارامولا میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ نئی دہلی کی حکومت کے دعووں کے باوجود کشمیر میں جاری بدامنی کی وجہ، پاکستان کی مداخلت نہیں بلکہ ہندوستان کی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی موجودہ وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھی سرینگر میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف سیاسی طریقے سے ہی حل ہو سکتا ہے اور دو پڑوسی ملکوں کی حیثیت سے ہندوستان اور پاکستان کو چاہئے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔ قومی سطح پر بھی مسلمانوں کے ساتھ بی جے پی کا رویہ کچھ ایسا ہے کہ ہندو انتہا پسند گروہوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں جبکہ ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں واقع بابری مسجد کو بھی اس ریاست میں بی جے پی کی ریاستی حکومت کے دور میں ہی شہید کیا گیا۔
ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں اور بابری مسجد کو شہید کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں سے متعلق کئے جانے والے مطالبات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہندوستان میں بابری مسجد کو شہید کئے جانے کو اتنا عرصہ گذر جانے کے باوجود اس ملک کے عوام خاص طور سے مسلمانوں نے اسے فراموش نہیں کیا ہے بلکہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ ہندوستان کی حکومت اور ہائی کورٹ دونوں، جموں و کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں شدّت پسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور خاص طور سے کشمیری عوام کی خواہشات کے پیش نظر اس علاقے میں پائدار امن قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔