میانمار کی حکومت نے مجبورا آسیان کا مطالبہ مان لیا
میانمار کی حکومت نے آسیان کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کی وجہ سے آخرکار اس کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔
تقریبا ایک مہینے سے علاقائی ممالک کی جانب سے میانمار پر ڈباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو تسلیم کر لے۔ آسیان کے رکن بعض ممالک کے حکام کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ملائیشیا، انڈونیشیا اور جنوبی تھائی لینڈ کے مسلمانوں کی جانب سے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کئے جانے والے مظاہروں کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ میانمار کی حکومت کو مجبورا آسیان کا مطالبہ تسلیم ہی کرنا پڑا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب میانمار کی حکومت اس طرح کے اقدامات کو اپنے داخلی امور میں مداخلت قرار دیتی تھی۔
ملائیشیا کے قانون دانوں اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے آسیان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ میانمار کے مسلمانوں کی المناک صورتحال کے سلسلے میں میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ مسلمانوں کی صورتحال واضح ہونے کے لئےکوئی راستہ نکالا جاسکے لیکن میانمار کی حکومت نے آسیان کے مسلّمہ معیارات اور قوانین کو نظر انداز کر کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ ان معیارات اور قوانین میں سے ایک انسانی حقوق کے منشور پر دستخط کرنا ہے ۔ میانمار نے فوجی حکومت کے آخری دور میں اس منشور پر دستخط کئے تھے اور عملی طور پر ثابت کر دیا کہ وہ موجود حالات کی پیروی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ میانمار کبھی بھی آسیان کا مفید رکن نہیں رہا اور اسی وجہ سے مغرب میں جمہوریت کے جھوٹے دعوے داروں کی جانب سے اس ملک کو آسیان سے نکال دیا گیا کیونکہ میانمار حقیقی طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا ملک رہا ہے البتہ مغربی ممالک کہ جن میں امریکہ سرفہرست ہے، اب میانمار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا ملک نہیں جانتا ہے کیونکہ میانمار امریکہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور مسلمانوں کے گھروں کا مسمار کیا جانا، ان کا قتل عام کیا جانا، ان کو بے گھر کرنا اور ان کے اموال کو ضبط کرنا انسانی حقوق کا فروعی پہلو ہے اور مغرب ان امور کی وجہ سے میانمار کی حکومت پر تنقید نہیں کرتا ہے۔
اسی کے مدنظر آسیان کو اپنی تاریخی ذمےداری کا ادراک ہوا اور اس نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم اقلیت کے سلسلے میں اپنے رویئے میں تبدیلی لائے۔
شاید اسی وجہ سے اور بعض دوسری وجوہات کی بنا پر میانمار کے ایک سفارتکار نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک مغربی میانمار میں واقع صوبہ راخین کے مسلمانوں کے انسانی بحران کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس بلائے جانے کا خواہاں ہے۔