یمن کے خلاف امریکہ اور اس کے پٹھووں کی سازشیں
امریکی وزیر دفاع نے سعودی عرب میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ٹھکانوں پر یمن کی عوامی فورسز کے میزائل حملے بند ہونے چاہیں۔
جیمز میٹّس نے اپنے دورہ مشرق وسطی میں سعودی عرب میں سعودی ٹھکانوں پر تحریک انصاراللہ کے میزائل حملوں کے بار ے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ امریکی وزیر جنگ کا موقف اس بات کو بیان کرتا ہے کہ واشنگٹن یمن کے واقعات کو مسخ کرکے پیش کرنا چاہتا ہے اور پروپگینڈا کرکے سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضا کار فورسز کی کاروائیوں سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر دفاع کے موقف سے واضح ہوتا ہے کہ آل سعود کی حکومت یمن کی استقامت کے بڑھتی ہوئی توانائی سے خوفزدہ ہے کیونکہ اس سے عملی طور سے سعودی عرب اور اس کے اتحاد اور حامیوں کی ساری سازشیں ناکام ہوگئی ہیں۔ یمن کی عوامی فورسز نے اپنی توانائیوں پر بھروسہ کرتے ہوئے مختلف طرح کے میزائل بنالئے ہیں اور سعودی عرب کے حملے شروع ہونے کے بعد آل سعود کے جرائم کے جواب میں اپنے میزائلوں سے سعودی عرب کے فوجی ٹھکانوں پرحملے کئے ہیں۔ یمن کی فوج نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں یہانتک کہ ریاض کے نزدیک تک بھی حملے کئے ہیں۔
سعودی عرب اور اسکے حامیوں کی یمن پر کلاسیکل اور نیابتی جنگ جاری رکھ کر اپنے اھداف حاصل کرنے میں ناکامی سے آل سعود اور اسکے حامی بے حد پریشان ہوچکے ہیں۔ اور یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا ہے کہ امریکی حکام حالیہ دنوں میں زیادہ کھل کر یمن کے عوام کے خلاف بول رہے ہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ یمن میں امریکہ کی فوجی مداخلت اور فوجی نقل و حرکت وسیع پیمانے پر بڑھتی جارہی ہے۔ اس مسئلے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی پراکسی وار کے پیچھے بڑے بڑے سازشی اہداف پنہاں ہیں۔ سعودی عرب کو شکست کھاتا دیکھ کر امریکہ اپنی شکست محسوس کررہا ہے اور اب خود میدان میں اتر آیا ہے تا کہ اپنی پالیسیاں آگے بڑھا کر علاقے میں سعودی عرب جیسے اپنے پٹھووں کو شکست سے بچاسکے۔ اسی سلسلے میں امریکہ نے یمن کے بعض صوبوں جیسے البیضاء،ابین اور حضرموت میں کارروائیاں انجام دی ہیں۔لیکن یہ مسئلہ عالمی رائے عامہ اور عرب ملکوں کے لئے واضح ہے کہ امریکہ کی یہ کاروائیاں سعودی عرب کی لاجسیٹک اور براہ راست مدد کرنے کےلئے انجام دی گئی ہیں۔
طویل مدت منصوبہ بندی کے تعلق سے بھی جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہےکہ امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین یمن کے مغربی ساحل پر تسلط حاصل کرنے کےلئے سمجھوتہ ہوچکا ہے اس سازش کا ھدف اسٹراٹیجیک آبی راستے باب المندب پر قبضہ کرنا ہے اور حدیدہ بندرگاہ کو اپنے کنٹرول میں لینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جس طرح سے سابق مفرور صدر کو صیہونی حکام نے ڈکٹیشن دیا ہے وہ یمن کے حصے بخرے کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی یمن میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور یمن کو شمال اور جنوب میں ٹکڑے کرنے کی سازش رچ رہا ہے اور چند صوبوں کی شکل میں فیڈرل حکومت تشکیل دینا چاہتا ہے۔ امریکہ اپنے نئے مشرق وسطی کی سازش کے تحت یمن کے حصے بخرے کرنا چاہتا ہے اور اسی ہدف کے تحت علاقے اور یمن میں اقدامات کررہا ہے اسی بنا پر عالمی رائے عامہ یمن میں امریکہ کے اقدامات کا خاص حساسیت سے جائزہ لے رہی ہے اور یمن کے عوام نے بھی بارہا اپنے ملک میں امریکہ کی مداخلتوں کے خلاف رد عمل ظاہر کیا ہے۔