May ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۹:۱۵ Asia/Tehran

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کا ہنگامہ خیز دورہ جو ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ایرانوفوبیا سے شروع ہوا اور امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ بیانیہ پر اختتام پذیر ہوگیا۔

امریکی صدر سعودی عرب کے بعد غاصب اسرائیل کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے دہشت گردی کے سرغنے اور انسانیت کے خلاف جرائم کا نیا ریکارڈ قائم کرنے والے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کی منصوبہ بندی کا سلسلہ مکمل کیا۔

امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ بیانیہ میں ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ علاقائی ممالک میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے اور علاقے اور دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ اس مشترکہ بیانیے میں ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے پر بھی نظر ثانی کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ بیانیے میں ایران کے میزائلی پروگرام کو بھی عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیانیہ تین اہم نکات میں خلاصہ ہوتا ہے جس کا بنیادی ہدف ایرانو فوبیا ہے۔

ایران کو خطے کے ممالک کے امور میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرانا، ایٹمی معاہدے کو متنازع بنانا اور ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کا بنیادی مقصد ایرانو فوبیا کا ماحول تیار کرنا ہے۔ البتہ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایرانو فوبیا کے اس منصوبے کے پیچھے کیا اہداف پوشیدہ ہیں۔ اس کا ایک بڑا مقصد ایرانو فوبیا کا ماحول پیدا کرکے عرب ممالک کو ایران سے خوف زدہ کرکے امریکی ہتھیاروں کو فروخت کرنا اور اپنی ہتھیاروں کی صنعت کو زندہ کرنا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تقریبا" چار سو ارب ڈالر کے مختلف سمجھوتوں کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

دوسرا بڑا ہدف خطے کے اسلامی ممالک میں اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنا ہے اور اس حوالے سے سعودی عرب بہترین کردار ادا کرسکتا ہے اور ریاض میں منعقدہ حالیہ امریکی سعودی کانفرنس میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی مکمل کوشش کی گئی اور امریکہ اور اسرائیل جیسے اسلام و مسلمین کے دیرینہ دشمنوں کو اسلام کے حامی ممالک ظاہر کرنے کی سعی کی گئی۔ سعودی عرب ایسے عالم میں ایران کو علاقے کے لئے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی سازش کر رہا ہے کہ خود اس ملک کا جنگ پسندانہ اور مسلم ممالک کے اندر اختلافات پیدا کرنے والا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ایرانو فوبیا منصوبے کا دوسرا ہدف ایران کوسیاسی طور پر تنہا کرنا ہے امریکہ اور صیہونی حکومت مل کر سعودی عرب کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں اور اس سناریو کا آخری نتیجہ سعودی عرب کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ سعودی عرب کو اس کھیل میں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے جس میں اس کا واحد بھروسہ پیٹروڈالر پر ہے حالانکہ تیل کی آمدنی کے حوالے سے گزشتہ دوسالوں میں اسے جو جھٹکا لگا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ  پٹروڈالر پر استوار اقتصادی نظام کس قدر کمزور ہے اور کسی بھی وقت بحران میں مبتلا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب ایران کے خلاف جعلی پروپیگنڈے کر کے بظاہر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کررہا ہے حالانکہ امریکہ اور غاصب اسرائیل نے علاقے میں بد امنی اور دہشتگردی کا بازار گرم کررکھا ہے اور یہی دہشتگردی اور انسانوں کا قتل عام ایک دن ان کی تباہی و بربادی پر منتج ہوگا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ اور علاقے کے عوام کو دھوکہ دینے والے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات صرف علاقے کی قوموں کی آزادی کا مقابلہ کرنے اور خطے میں صیہونی حکومت کی بالادستی قائم کرنے کے لئے ہیں-

انہوں نے کہا کہ افسوس کہ علاقے کی بعض حکومتیں اپنی عوامی قوتوں پر بھروسہ کرنے اور علاقائی تعاون  کے بجائے بڑی طاقتوں کی حمایت پر منحصر ہو گئی ہیں اور علاقے کے ملکوں کی بنیادوں اور بنیادی تنصیبات کو کمزور اور تباہ کرنے کا راستہ ہموار کر رہی ہیں جن میں یمن کی افسوسناک صورتحال اور شام میں تکفیری دہشت گردوں کے ذریعے بنیادی شہری تنصیبات کی تباہی کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے-

وزارت خارجہ کے ترجمان نے علاقے کے ملکوں کے داخلی امور میں امریکا کی سابقہ حکومتوں کی مداخلت کے سلسلے میں امریکی حکام کے موقف کے غلط ثابت ہونے اور داعش جیسے خونخوار دہشت گرد گروہ کو وجود میں لانے پر مبنی امریکا کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ اپنے اس قسم کے اقدامات سے باز آجائے-

انہوں نے علاقے کی حکومتوں سے بھی کہا کہ وہ امریکا کی فرضی حمایت کے بدلے ہتھیاروں کی خریداری میں اپنے عوام کی دولت خرچ کرنے کے بجائے اپنے عوام کی رفاہ و آسائش کے لئے اقدام کریں اور اتنی خطیر رقم، اپنے اپنے ملکوں کی ترقی اور علاقے میں تعمیری تعاون پر خرچ کریں-

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے لئے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی حمایت اس قدر آشکارا ہے کہ دوسروں پر دہشت گردی کی حمایت کا مورد الزام ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور علاقے کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد اور ان کے ذرائع بند ہو جائیں تو ان گروہوں کا بہت ہی آسانی سے قلع قمع کیا جا سکتا ہے-