Jun ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۸:۲۷ Asia/Tehran
  • سعودی عرب دہشت گردوں کا کفیل

سعودی عرب دہشت گرد ٹیموں کی مالی حمایت کر رہا ہے اور ایسے بہت سے ثبوت و شواہد موجود ہیں کہ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے پڑوسی ملکوں کے افراد کو خریدا گیا ہے تاکہ وہ ایران میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیں-

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر انٹیلی جنس محمود علوی نے بدھ کے روز کہا کہ چابھار میں ایک کامیاب آپریشن میں دو دہشتگرد ہلاک جبکہ پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا اور اس آپریشن کے دوران وزارت انٹیلی جنس کا ایک اہلکار بھی شہید ہوگیا۔

انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی نے کہا کہ صوبہ کردستان میں بھی ایک آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ایک نیٹ ورک کو تباہ کیا گیا ہے۔ علوی نے کہا کہ سعودی عرب دہشتگرد گروہوں کی مالی مدد کرتا ہے اورہمسایہ ملکوں سے کئی دہشتگردوں کو ایران میں دہشتگردانہ کارروائیوں کیلئے خریدا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چابھار سے گرفتار ہونے والے پانچ دہشتگردوں میں سے دو دہشتگردوں کا تعلق ایک ہمسایہ ملک سے ہے۔

ایران برسوں سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے دہشت گردی سے حقیقی مقابلے کی ضرورت و اہمیت کو صحیح طور پر درک کر رہا ہے- چنانچہ آٹھ شہریور مطابق تیس اگست کا دن ایرانی کیلنڈر میں دہشت گردی سے مقابلے کے دن سے موسوم کیا گیا ہے اور یہ مسئلہ اسی نکتے کی یاددہانی کرتا ہے- دہشت گرد گروہوں نے گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کی مالی اور فوجی حمایت کے سبب، علاقے کے ملکوں منجملہ عراق ، شام اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے -

گذشتہ ہفتے داعش سے وابستہ عناصر کے توسط سے  ایران کے دارالحکومت تہران میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے مرقد  اور مجلس شورائے اسلامی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملوں نے، کہ جس میں سترہ افراد  شہید اور دسیوں دیگر زخمی ہوگئے تھے ،  ان دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ایک نئی جہت دیا ہے- دہشت گردی کی حمایت میں سعودی عرب کے کردار سے متعلق متعدد علامتوں اور ریکارڈز کے پیش نظر، تہران میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے تعلق سے ریاض پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے- سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ قبل فارن افیئرز جریدے کے ساتھ گفتگو میں ایران پر الزامات لگائے تھے۔

ان کے انٹرویو سے لگتا ہے کہ وہ سیاسی توھم کا شکار ہوگئے ہیں۔  سعودی عرب کے وزیر دفاع بزعم خویش ایران کو علاقے کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے یہ توھمات عالمی آئیڈیالوجی، عدم استحکام اور دہشتگردی کے دا‏ئرے میں پیش کیا ہے۔ محمد بن سلمان نے کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ  سعودی عرب کا مقصد ایران کی سرحدوں کے اندر دہشت گردی پھیلانا اور جنگ چھیڑنا ہے"  - ایران کے تعلق سے آل سعود کے ان جاہلانہ اور متعصبانہ اظہار خیالات نے واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کے سابق بادشاہ ملک عبداللہ کے مرنے کے بعد برسر اقتدار آنے والے موجودہ حکمرانوں نے ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ رکھنے کی ٹھان لی ہے- اس کشیدگی کے آثار پہلے ایران کے اطراف میں سیکورٹی خطرات کا دائرہ وسیع کرنے کے سبب ظاہر ہوئے اور اب دہشت گردی کے حامیوں کی کوشش ہے کہ اسے ایران کی سرحدوں میں داخل کریں-

آل سعود کے نا تجربہ کار  مہم جو اور اقتدار کے بھوکے حکمراں یہ تصور کررہے ہیں کہ وہ اس قسم کے اقدامات کے ذریعے آل سعود کی استبدادی حکومت کی لرزتی ہوئی بنیادوں کو دوبارہ مستحکم کرسکتے اورعلاقے میں آل سعود کی مردہ پالیسیوں میں دوبارہ جان ڈال سکتے ہیں- ریاض نے اب تک دہشت گرد گروہوں کی وسیع پیمانے پر حمایت کی ہے - سعودی عرب ، لبنان سے لے کر شام و عراق تک داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی، جو پورے علاقے میں بدامنی اور تباہی و بربادی کا سبب بنے ہیں، مالی مدد کر رہا ہے اور انہیں ٹریننگ دے کر مسلح کر رہا ہے-

 ریاض نے اپنے قابل اعتراض اقدامات کے ذریعے علاقے اور دنیا کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کردیا ہے - ایران اور علاقے کو بدامنی سے دوچار کرنے کا منصوبہ، امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ ریاض میں ہری جھنڈی دکھانے کے بعد شروع ہوا ہے- تہران میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد دنیا کے بہت سے ملکوں نے جہاں ایران کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا وہیں وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہاکہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ریاستیں دہشت گردی میں معاونت کرتی ہیں وہ بالآخرخود بھی اس کا شکار ہوجاتی ہیں- 

میڈلبری کالج کے ایٹمی ماہر جفری لوئیس اس مسئلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں : ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ایران پر مسلسل دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا کر اور دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرکے، تہران کو مذاکرات کی میز تک کھینچ لائے لیکن ایران کو الگ تھلگ کرنے کی ٹرمپ کی کوشش نہ صرف ایران کو غصہ دلانے کے لئے ہے بلکہ اس سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوجائیں گے-

البتہ اسی طرح کے منصوبے پر اس سے قبل بھی امریکہ اور سعودی عرب نے عمل کرتے ہوئے دہشت گرد گروہ منافقین کی حمایت انجام دی ہے-  ان ریکارڈز کے پیش نظر، سعودی عرب کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت ، اور ایران کو بدامنی سے دوچار کرنے میں اس کی امریکہ کے ساتھ ہم فکری، کوئی الزام نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو ریاض اور واشنگٹن کے حکام کے آشکارہ موقف اور اقدامات کے دائرے میں برملا ہو رہی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو چیز ان کے لئے اہمیت رکھتی ہے وہ کسی بھی وسیلے سے اپنے ہدف تک پہنچنا ہے حتی اگر دہشت گردی کی براہ راست حمایت ہی کیوں نہ کرنا پڑے- دہشت گردی بلا شبہ سب کے لئے خطرہ ہے یہاں تک کہ ان کے حامیوں کے لئے بھی- اس وقت دہشت گرد گروہوں کے سلسلے میں دوہری پالیسیوں کے آثار مزید آشکارہ ہوگئے ہیں اور دہشت گردی اس مرحلے میں پہنچ گئی ہے کہ اس کا فاتح کوئی نہیں ہے-