امریکہ کے ایران مخالف اقدامات
اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ نکی ہیلی (Nikki Haley) نے امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ہیئرنگ ( hearing) کے دوران کہا کہ ہم ایران کے میزائل خطرات کا سختی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، اس نے میزائل تجربات کئے ہیں، اس نے میزائل داغے ہیں، وہ خطے میں برا کھیل کھیلنے والوں کو ہتھیار ارسال کر رہا ہے، ہم اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
دریں اثناء واشنگٹن پوسٹ نے بھی ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل مک ماسٹر ( McMaster) کے حوالے سے لکھا ہے: "ایران عرب دنیا کو کمزور رکھنے کے لئے فرقہ واریت کو ہوا دے رہا ہے۔" اب یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ نے وسیع پیمانے پر ایران مخالف اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کانگریس نےبھی ایران سے متعلق قانون کے تین مسودوں کا جائزہ لینے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔
الحدث ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس جمعرات کے دن ایران کے بارے میں قانون سے متعلق تین مسودوں کا جائزہ لینےوالی ہے۔ ان میں سے ایک مسودے کا تعلق ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے سے ہے۔
قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کرنے کے درپے ہے۔ اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے امریکہ کی سازش پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی سازش دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ ان پراکسی وارز میں ایران کو شکست دینا ہے جو امریکہ نے سعودی عرب کے ذریعے شام، یمن اور عراق میں شروع کر رکھی ہیں۔ خطے میں امریکہ کو درپیش مشکلات کی وجہ سے امریکہ کی اس سازش کا کامیاب ہونا بہت زیادہ مشکل ہے۔شام کے حالات میں ایران کا موثر کردار اور ایران کے ساتھ روس کی ہم آہنگی امریکہ کے لئے خوش آئند نہیں ہے۔ خطے کی صورتحال میں ایران کی برتر پوزیشن امریکی اہداف کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ شمار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہےکہ امریکہ اپنی سازش کے دوسرے حصے کو عملی جامہ پہنانےکے درپےہے ۔ وہ ایران پر دباؤ میں شدت پیدا کرنے کے سلسلے میں یورپی یونین کو اپنے ساتھ تعاون پر مائل کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ تین طریقوں سے اپنی سازش کے اس حصے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ اول یہ کہ وہ ایران کے خلاف ماحول پیدا کر کے اس پر دباڈ ڈالنے، شام اور عراق میں ایران کے کردار کے آگے سوالیہ نشان لگانے اور خطے میں استقامت کی حمایت کمزور کرنے کے درپے ہے۔ دوم یہ کہ وہ جھوٹ سے کام لیتے ہوئے ایران کے میزائل پروگرام کو خطرہ ظاہر کرنے کے درپے ہے۔ اور سوم یہ کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ علاقائی اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے اور یہ چیز ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کا ایک نتیجہ ہے۔ اس دورے کے موقع پر امریکہ نے ایک سو تیس ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدے اور مجموعی طور پر چار سو ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئےگئے۔ بلاشبہ ٹرمپ کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے جو کہ ان کو خطے میں ایرانوفوبیا پھیلانے کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ بنابریں امریکہ کے نزدیک ایران کے ساتھ کشیدگی میں جتنا زیادہ اضافہ ہوگا خطے میں امریکہ کے کثیرالجہتی اہداف کے حصول کا عمل تیز تر ہوگا۔
البتہ یہ بات طے ہے کہ ایران اپنے اصولی موقف سے ہرگز پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ امریکہ اور ہر دوسری طاقت کے مقابلے میں ڈٹ جانے سے متعلق ایران کی منطق بہت مضبوط ہے جبکہ امریکی رائے عامہ یہ نہیں چاہتی ہے کہ امریکہ افغانستان یا عراق میں مداخلت جیسی غلطی دہرائے۔
امریکہ ایران کے بارے میں اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ ایران مشترکہ جامع ایکشن پلان اور ایٹمی معاہدے کی وجہ سے اپنے اصولی مواقف سے پسپائی اختیار کر لے گا۔
اخبار ہفینگٹن پوسٹ (Huffington Post) نے مغربی ایشیا کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسی سے متعلق امور کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لے رہے ہیں۔ اس اخبار نے مزید لکھا ہےکہ اکثر امریکی عوام کو اس بارے میں تشویش لاحق ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی لفاظی میں موجود خطرات کے ادراک سے عاجز ہیں۔
اخبار ہفینگٹن پوسٹ (Huffington Post) نے مزید لکھا ہے کہ زیادہ تشویش کن بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ایک جیو پولیٹیکل غلطی کا ارتکاب کرنے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ اس وقت سعودی عرب کی گندی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ یہ پالیسی امریکہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے ۔ اس سے صرف سعودی عرب کے اہداف ہی پورے ہوسکتے ہیں۔