شمالی کوریا کے خلاف امریکی پابندیوں کی مدت میں توسیع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ اون کے ساتھ سنگاپور میں حال ہی میں ملاقات انجام پانے کے باوجود کہا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں جاری رہیں گی-
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری آفس سے جاری دستاویز میں اعلان کیا گیا ہے امریکی صدر نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری کی گئی ’نیشنل ایمرجنسی‘ میں مزید ایک سال کا اضافہ کردیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کے روز، شمالی کوریا کو امریکہ کے خلاف ایک غیرمعمولی خطرہ قرار دیتے ہوئے پیونگ یانگ کے خلاف عائد شدید اقتصادی پابندیوں کی مدت میں مزید توسیع کا اعلان کیا ہے-
اس دستاویز کا مطلب یہ ہے کہ شمالی کوریا پر عائد امریکی پابندیاں آئندہ سال جون 2019ء تک برقرار رہیں گی جب کہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے تک شمالی کوریا پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام، شمالی کوریا کے خلاف ایک بار پھر امریکہ کے فریبی اور منفعت پسندانہ رویے کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعوی کیا تھا کہ کیم جونگ اون کے ساتھ بارہ جون کو سنگاپور میں ہونے والی ان کی ملاقات میں، امریکہ کے خلاف پیونگ یانگ کے ایٹمی خطرہ ہونے کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی میں اس مسئلے میں صداقت پائی جاتی ہے تو پھر کس لئے ٹرمپ نے پیونگ یانگ کے خلاف پابندیوں کی مدت میں توسیع کی اصلی وجہ، شمالی کوریا کو امریکہ کے لئے غیرمعمولی خطرہ ہونا قراردیا ہے؟
کیم جونگ اون اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حال ہی میں، سنگاپور میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کئے تھے کہ جس کی بنیاد پر پیونگ یانگ نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور واشنگٹن نے اس کے بدلے میں شمالی کوریا کو سیکورٹی ضمانت فراہم کرنے کا وعدہ دیا تھا- اس امر کے پیش نظر کہ امریکہ نے ماضی میں بھی شمالی کوریا سے کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں ماضی کے جو تجربے ہیں اس کے مدنظر، اس وقت بھی شمالی کوریا کو امریکی وعدوں پر چنداں اعتماد نہیں ہے-
خاص طور پر ایسے میں جبکہ ٹرمپ ایک ناقابل اعتماد شخص ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوران وہ متعدد عالمی معاہدوں سے یکطرفہ طور پر خارج ہوچکا ہے۔ امریکہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ شمالی کوریا کو دنیا کے لئے ایک خطرہ ظاہر کرے لیکن خود واشنگٹن جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی پھیلانے کا اصلی عامل ہے اور دنیا کے لئے حقیقی خطرہ ہے۔ ٹرمپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اپنےتجارتی طریقوں اور ہتھکنڈوں کو بروئےکار لاکر اور براہ راست مذاکرات کے ذریعے نیز فریق مقابل پر دباؤ ڈال کر اپنے اہداف کو عملی جامہ پہنائے-
شمالی کوریا کے تعلق سے بھی ٹرمپ نے پیونگ یانگ کو اب تک جو وعدے دیئےہیں ان پر عمل بس وعدوں کی حد تک ہی رہا ہے- البتہ اس سلسلےمیں امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی پروگراموں کو، جن پر آئندہ تین مہینوں میں عملدرآمد ہونا تھا، ملتوی کردیا گیا ہے- یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ، سنگاپور میں امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہی اجلاس کے نتائج پر عملدآمد کی حمایت میں کیا گیا ہے-
ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات کا اظہار کرتے ہوئے کہ شمالی کوریا میں میزائل تجربات کی چار بڑی سائٹیں تباہ کردی گئی ہیں دعوی کیا ہے کہ اس ملک میں ایٹمی ہتھیاروں کی مکمل تباہی کا عمل شروع ہوچکا ہے- یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ میں قائم شمالی کوریا کے آبزرویٹری گروپ نارتھ 38 نے ایک تجزیے میں، جو رواں ہفتے کے اوائل میں جاری ہوا ہے کہا ہے کہ سوہائے انجن ٹسٹ Sohae Engine Test سائٹ کے منھدم ہونے یا کسی اورمیزائل ٹسٹ کی سائٹ کے تباہ ہونے کی کسی علامت کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے-
اس طرح سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پیونگ یانگ بھی اس بات پر پوری توجہ دے رہا ہے کہ جب تک امریکہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرے گا وہ بھی اپنی میزائلی اور ایٹمی صلاحیت میں کمی لائے گا اور نہ ہی اسے ختم کرے گا- وہ چیز جو پیونگ یانگ کے لئے اس وقت بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اس ملک کے خلاف وسیع پابندیوں کا منسوخ کیا جانا ہے کہ جس کے باعث عوام پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ جبکہ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے خلاف امریکی پابندیوں کی مدت میں توسیع کرکے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ اسے اپنے ماضی کے وعدوں کے باوجود، کیم جونگ اون پر اعتماد نہیں ہے اور وہ پیونگ یانگ کو مراعات دینے سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے درپے ہے-