سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر میں شدید قلت
سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر کا حجم گھٹ کر گزشتہ چار برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مالیاتی ادارے جدوا انوسٹمنٹ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر سنہ دو ہزار پندرہ کے آخر تک کم ہو کر چھے سو گیارہ اعشاریہ نو بلین ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے جو کہ سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک سات سو بتیس بلین ڈالر کی سطح پر تھے۔ رپورٹ میں اس کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں ہونے والی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آخر تک سعودی عرب کے مالیاتی ذخائر کم ہو کر پانچ سو بلین ڈالر کی سطح پر آ سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے ریکارڈ اٹھانوے بلین ڈالر بجٹ خسارہ ظاہر کیا تھا۔ سعودی عرب کو تیل کی قیمت میں کمی کے باعث اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ساٹھ فیصد کمی کا سامنا ہے۔ رواں برس کے دوران سعودی عرب کو ستاسی سے ایک سو سات بلین ڈالر بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ برس اس نے تیل فروخت کر کے صرف ایک سو اٹھارہ بلین ڈالر کمائے تھے۔