سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سترہ فیصد کی کمی
سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سترہ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
سعودی عرب کے مرکز ی بینک کے مطابق جنوری میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں سولہ اعشاریہ نو فیصد کی کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔ سعودی عرب کے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری کے اختتام پر اس ملک کے زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر چھے سو اٹھارہ ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں۔ ایک سال پہلے تک سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ تھے۔ سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سن دو ہزار گیارہ سے دو ہزار پندرہ کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اسلحہ کی خریداری میں دو سو اناسی فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے مرکز سی آئی پی کے مطابق جنگ یمن کے بعد سے ریاض نے مغربی ملکوں کے ساتھ اسلحہ کی خریداری کے متعدد معاہدے کئے ہیں۔ سی آئی پی کے تجزیہ نگار ویلیم ہارٹونگ نے لو بلاگ نامی انٹرنیٹ سائٹ پر شائع ہونے والے مقالے میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے سن دو ہزار گیارہ سے دو ہزار پندرہ کے دوران اسلحہ کی خریداری میں دو سو اناسی فیصد کا اضافہ کیا ہے اور اس کا تین چوتھائی حصہ امریکہ اور برطانیہ نے فراہم کیا ہے۔ دوسری جانب عالمی سیکورٹی کی نگرانی کرنے والے ادارے ایس اے ایم کی رپورٹ کے مطابق بش انتظامیہ کے مقابلے میں بارک اوباما کے دور حکومت میں سعودی عرب کو اسلحے کی سپلائی میں چھیانوے فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔