سعودی عرب: زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، تنخواہیں کم کر دی گئیں
سعودی عرب کی مالیاتی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی واقع ہو رہی ہے۔
ترک خبررساں ادارے آناتولی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کی مالیاتی ایجنسی نے بتایا ہے کہ اگست دو ہزار سولہ کے مقابلے میں ستمبر کے مہینے میں زرمبادلہ کے قومی ذخائر میں ایک اعشاریہ تین فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگست کے مہینے میں سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر پانچ سو باسٹھ ارب ڈالر پر مشتمل تھے جو ستمبر کے مہینے میں گھٹ کر پانچ سو چوّن ارب ڈالر رہ گئے۔
واضح رہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید کمی اور یمن پر جارحیت کے اخراجات نے سعودی عرب کی معاشی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کا بجٹ نوّے فیصد تک تیل کی آمدنی سے وابستہ ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، آل سعود حکومت کو ستّاسی ارب ڈالر پر مشتمل بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے کم کرنے کے لئے گذشتہ مہینے، وزیروں اور مشاورتی کونسل کے ارکان کی تنخواہوں اور بونس میں کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے عام ٹیکس کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے پیٹرول کی قیمتوں میں پانچ سے چھے فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں نو فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کی ایک اور شاہی حکومت کویت نے بھی سن دو ہزار بیس تک شہریوں کو فراہم کی جانے والی سبسیڈیز ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کویت نے ڈیزل، پیٹرول اور تیل پر دی جانے والی رعایت کو بھی ختم کر دیا تھا جس پر سیاسی بحران کھڑا ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ سن دو ہزار سولہ میں اس ملک کا بجٹ خسارہ انتیس ارب ڈالر پر مشتمل ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ شدید معاشی مشکلات کے باوجود، عرب ممالک نے امریکہ، جرمنی اور فرانس کے ساتھ بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان اور ہتھیار خریدنے کے لیے بھاری مالیت کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ برسوں کے دوران ساٹھ ارب ڈالر سے زائد کے ہتھیار خریدے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر یمن کے نہتے عوام کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔