ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالات بدستور بحرانی
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سخت ترین بندشوں اور کرفیو کے باوجود جمعرات کو بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا
سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ جمعرات کو پچپنویں روز بھی پرتشدد مظاہرے کئے گئے جن کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوگئے - شمالی کشمیر کے سوپور اور بارا مولا جبکہ سری نگر کے قریبی علاقے گاندربل میں شدید احتجاجی مظاہروں کی خبر ہے - سوپور اور بارامولا میں ہونےوالے مظاہروں میں جو افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں دو کمسن بچے بھی شامل ہیں - حکام کا دعوی ہے کہ وادی کےتقریبا سبھی علاقوں سے کرفیو ہٹالیا گیا ہے لیکن عینی شاہدین اور کشمیری باشندوں کا کہنا ہے کہ کرفیو ہٹالئے جانے کے بعد بھی لوگوں کی آمد و رفت پر اتنی شدید بندش ہے کہ جیسے لگتاہے کہ پوری وادی میں کرفیونافذ ہے - اس درمیان سری نگر میں حکام کا کہنا ہےکہ حالات پر قاپوپانے کے لئے گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز کردیا گیا ہے اور اب تک ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے - ادھر اطلاعات ہیں کہ وادی میں صورتحال کوکنٹرول کرنے کے لئے نئی دہلی سے سی آر پی ایف کی مزید بیس کمپنیاں بھیجی جارہی ہیں - وادی میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چار ستمبر کو مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں جو کل جماعتی وفد کشمیر پہنچ رہا ہے اگر اس نے علیحدگی پسند جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی تو حالات میں بہتری آنے کی توقع کی جاسکتی ہے - زمینی سطح پر حکومت کی طرف سے حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کئے جانے کے بعد بھی احتجاجی مظاہروں کی جو لہر گذشتہ نوجولائی کو شروع ہوئی تھی وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے بلکہ اس میں شدت ہی آتی جارہی ہے - گذشتہ پچپن روز میں وادی میں پرتشدد مظاہروں کےدوران مرنےوالوں کی تعداد ستر سے زائد ہوگئی ہے جبکہ آٹھ ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں - جن میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو پیلٹ گنوں سے زخمی ہوئے ہیں -