Sep ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۵:۳۴ Asia/Tehran
  • کرفیو کے خاتمے کے باوجود وادی کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام کے بقول وادی کے سبھی اضلاع میں کرفیو ہٹا لیا گیا ہے تاہم مختلف مقامات پر بدھ کو بھی پرتشدد مظاہروں کاسلسلہ جاری رہا

سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ وادی کے سبھی اضلاع میں کرفیو ختم کردیا گیا ہے البتہ امن و قانون کو بحال رکھنے کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ رہے گی - حکام کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر لوٹ رہے ہیں- حکام نے دعوی کیا ہے کہ وادی میں حالات بحال ہو رہے ہیں اور اگر  لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تو اس کی وجہ علیحدگی پسند جماعتوں کی جانب سے کی گئی ہڑتالیں ہیں - دوسری جانب  حکام کے دعوؤں اور دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے باوجود وادی کے شمالی اور جنوبی اضلاع میں پچہترویں روز بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا - جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں - اننتاگ میں لوگوں نے ایک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس اور سیکورٹی فورس نے اس کو ناکام بنا دیا - اس موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپ  ہوئی - جس میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں- مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کیا ہے - شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ اور بارا مولا سے بھی پرتشدد مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں - اس درمیان جنوبی کشمیر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے مناظر دیکھ کر ایک خاتون حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث انتقال کرگئی - ایک خبر یہ بھی ہے کہ بدھ کو پولیس اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے وادی کے مختلف علاقوں سے ایک سو افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں جموں کشمیر کی جماعت اسلامی  کے تین رہنما بھی شامل ہیں - دریں اثنا پچہترویں روز بھی ہڑتال کے باعث معمولات زندگی بری طرح مفلوج رہے جبکہ سری نگر کے بالائی حصوں میں بدھ کو نجی گاڑیاں خاصی تعداد میں سڑکوں پر دیکھی گئیں - ادھر لائن آف کنٹرول پر منگل کو مبنیہ دراندازوں اور ہندوستانی فوج کے درمیان تصادم  کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جبکہ ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا بھی الزام لگایا ہے -