کشمیر، پیر کو بھی حالات بدستور کشیدہ
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کو بھی احتجاجی مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔
سری نگر سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مزاحمتی جماعتوں کی اپیل پر پیر کوبھی وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوام نے ہڑتال اور مظاہرے کئے۔ اس رپورٹ کے مطابق اننت ناگ، پلواما، شوپیاں، کلگام اور بارہ مولا سمیت مختلف علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود عوام نے سڑکوں پر نکل کے مظاہرے کئے۔
ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ بعض جگہوں پر مظاہرین اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو وادی کشمیر کے کسی بھی علاقے میں کرفیو نہیں لگایا گیا ہے لیکن ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ سرینگر کے پائین شہر سمیت وادی کے حساس علاقوں میں حفاظت کے اتنے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے کہ کرفیو کا گمان ہوتا تھا۔ یاد رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسی دن سے مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔
اس درمیان مظاہرین اور سیکورٹی دستوں کے درمیان تصادم میں تقریبا سو افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں بھی کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ خاص طور پر اوڑی میں ہندوستان کے فوجی مرکز پر حملے کے بعد لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے حکام نے ایک دوسرے پر سخت زبانی حملے بھی کئے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا ہے۔