ہندوستان کے وزیر اعظم کی اپوزیشن پرتنقید
ہندوستان کےوزیراعظم نریندر مودی نے آج ملک کی جمہوریت کو ایک سیاسی خاندان کو وقف کردینے پر کانگریس کو لتاڑتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے 1970کی دہائی میں جمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی، وہ عوام کی طاقت کو نہیں سمجھ پائے تھے۔
صدر کی تقریرپر شکریہ کی تحریک پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج لوک سبھا میں کہا کہ وہ غریبوں کے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس راہ میں چاہے کتنی بھی رکاوٹیں آئیں وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ان کی حکومت غریبوں کی حکومت ہے وہ غریبوں کے مفادات کے لئے کام کر رہی ہے۔ حکومت ایسے ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے جس سے ملک سے غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔
نریندر مودی نے نوٹ کی منسوخی کے اپنے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ہندوستان کی طرح ہی ملک کی معیشت کو بھی صاف ستھرا بنانے کی یہ ایک بڑی مہم ہے جسے صحیح وقت پر شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ملک میں نقدی کی لین دین کی وجہ سے کالے دھن کی ایک متوازی معیشت پھل پھول چکی تھی اور وسائل کی کمی نہ ہونے کے باوجود غریبوں کو ان کا حق نہیں مل رہا تھا۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ نوٹ بندی پر بولیں گے تو’’ زلزلہ آجائے گا‘‘۔انہوں نے کہا 1998 میں راجیو گاندھی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل تھی اور کانگریس کا پنجاب سے پارلیمنٹ تک ہر جگہ قبضہ تھا، مگر حکومت نے قانون پر عمل کیوں نہ کرایا۔
اپنی حکومت کی ڈجیٹل ادائیگی کو آگے بڑھانے کے اقدام کے بارے میں انہوں نے کہا نقدی کا استعمال بدعنوانی کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد سونا اور دیگر چیزوں کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو چلنے نہیں دیا کیونکہ ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ بینکوں اور اے ٹی ایم کے سامنے لمبی لمبی قطاروں سے ملک میں بہت بڑے مسئلے پیدا ہوجائیں گے۔