ہندوستان ؛ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان نونک جھونک
ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں جمعے کو حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے اراکین کے درمیان زبردست نونک جھونک کے بعد کارروائی پیر تک کے لئے ملتودی کردی گئی
ہندوستانی میڈیا ذرائع کے مطابق جمعے کو لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود ہرش وردھن سے کچھ سوال پوچھے ۔
مسٹر ہرش وردھن نے راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مسٹرگاندھی کے اس بیان کی مذمت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک کے نوجوان ڈنڈے ماریں گے۔
اس کےبعد حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے اراکین کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے ، کے اراکین بھی کھڑے ہوکے مرکزی وزیر صحت پر اعتراض کرنے لگے ۔
پھر بے جی پی اور حزب اختلاف کے اراکین پارلیمان کے درمیان نعرے بازی شروع ہوگئی ۔
حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے کارروئی ایک بجے تک کے لئے ملتودی کردی ۔لنچ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے اراکین دوبارہ اسی مسئلے پر الجھ پڑے جس کے بعد کاروائی پیر تک کے لئے ملتوی کردی گئی ۔
دوسری جانب راجیہ سبھا کے چیئر مین ایم وینکیا نائیڈو نے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے لئے این پی آر کو ضروری قرار دیا ہے۔راجیہ سبھا میں جمعے کو وقفہ صفر کے دوران جنتا دل یونائٹیڈ کے رکن رام ناتھ ٹھاکر نے مطالبہ کیا کہ حکومت سن دو ہزار اکیس میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائے ۔
اس کے جواب میں چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے لئے این پی آر پر عمل درآمد ضروری ہے۔
راجیہ سبھا کے چیئرمین نے یہ ریمارکس ایسے عالم میں دیئے ہیں کہ پورے ملک میں جاری مظاہروں ، دھرنوں اور ریلیوں میں سی اے اے اور این آر سی کے ساتھ ہی این پی آر کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے۔