قومی شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i362370-قومی_شہریت_قانون_کے_خلاف_احتجاج_جاری_رکھنے_کا_اعلان
سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر نے کہا کہ فی الحال معاملہ آپ کے احتجاج کے حق کا ہے اور دوسرے لوگوں کے حق کا بھی ہے۔ اس پر ہم سب کو مل کر حل نکالنا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Feb ۲۱, ۲۰۲۰ ۰۶:۴۷ Asia/Tehran
  • قومی شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر نے کہا کہ فی الحال معاملہ آپ کے احتجاج کے حق کا ہے اور دوسرے لوگوں کے حق کا بھی ہے۔ اس پر ہم سب کو مل کر حل نکالنا ہے۔

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے حق کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مقررکردہ مذاکرات کارسادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک حق بولنے والی شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس وقت تک ہندوستان کو کوئی خطرہ لاحق (جمہوریت اور آزادی کو) نہیں ہوسکتا۔

اس موقع پرمظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے اور محترمہ سائشتہ ناز نے کہا کہ اسی صورت میں ہم لوگ یہاں سے اٹھیں گے کہ یا تو حکومت اس قانون کو واپس لے یا پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور امت شاہ کے گھر میں دھرنا دینے کی اجازت دے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے ملک کے شاہین باغ والوں کو اس دھرنا میں شامل ہونے کی دعوت دیں گی۔

دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔

اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔

 اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔

در ایں اثنا آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی اے آئی ایم ) کے قومی ترجمان وارث پٹھان نے حکومت کے خلاف جاری مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے پراعتراض ظاہر کرنے والوں پر حملہ کرتے ہوئے بغیر کسی مذہب کا نام لیے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ 15 کروڑ سے کم ہے لیکن ضرورت پڑنے پر وہ سب پر بھاری پڑیں گے۔ وارث پٹھان نے کلبرگی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو صرف مسلم خواتین باہر نکلی ہیں ۔ جب پوری کمیونٹی متحد ہوکر باہر نکلے گی ، تو اس وقت بہت واضح اثر پڑے گا۔