سعودی عرب کے منفی کردار پر ایران کی کڑی نکتہ چینی
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسلامی تعاون تنظیم کی وزارتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب کے منفی کردار اور س کے نتائج کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے۔
استنبول سے ہمارے نمائندے کے مطابق وزیر خارجہ محمدجواد ظریف نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے ایجنڈے میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پانچ شقیں شامل کرانے کی سعودی عرب کی کوششوں کی سختی کے ساتھ مخالفت کی ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا یہ اقدام، اسلامی بھائی چارے کے منافی ہے اور اس سے اسرائیل کے مفادات پورے ہوں گے۔ او آئی سی کی وزارتی کونسل کے اجلاس میں شریک سعودی وفد، اسلامی سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں ایران کے خلاف چار اور حزب اللہ لبنان کے خلاف ایک شق شامل کرانا چاہتا تھا تاہم اسے ایرانی وفد کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے عراقی ڈکٹیٹر صدام کے دور میں مسلط کردہ جنگ میں اسلامی تعاون تنظیم کو ایران کے خلاف بطور ہتھکنڈا استعمال کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک ایک بار پھر اسی ناکام حربے کو آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے او آئی سی کی وزارتی کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ اسلامی اتحاد کی جانب قدم بڑھائے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو بڑے اجلاسوں میں اٹھانے کے بجائے باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بعض ملکوں کے اشتعال انگیز اقدامات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران تمام ہمسایہ اور اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی کوشش کرتا چلا آرہا ہے۔