کہگیلویہ و بویر احمد کے دورے میں ایران کے صدر کا خطاب
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ دشمن، ایران میں یورینیم کی افزودگی کا عمل روکنے میں ناکام رہا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے صوبے کہگیلویہ و بویر احمد کے اپنے دورے میں یاسوج میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جوہری پابندیوں کے منصوبے سازوں کا اصل مقصد، ایران میں یورینیم کی افزودگی کا عمل ختم کرانا تھا مگر وہ اپنے اس مقصد کے حصول میں ناکام رہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اس وقت نہ صرف یہ کہ نطنز، اراک، اصفہان اور فردو میں ایران کی جوہری سرگرمیاں جاری ہیں بلکہ دنیا نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو تسلیم بھی کرلیا ہے اور قرارداد بائیس اکتّیس میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کو چاہئے کہ ایران کے ساتھ تعاون کریں۔ صدر مملکت نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان صرف پابندیوں کے خاتمے کے مترادف نہیں ہے، کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کو شروع ہی میں اس بات کی تاکید کردی گئی تھی کہ مذاکرات میں پی ایم ڈی کی مانند پابندیوں کی تمام بنیادی چیزیں ختم ہونی چاہئیں اور آئی اے ای اے کی جانب سے ایسی رپورٹ پیش کئے جانے سے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں کوئی سوال نہیں پایا جاتا بنیادی مسئلہ ختم ہو گیا۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بعد، ملک میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جبکہ اس عمل میں بدستور اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ صدر مملکت نے مستقبل سے امید اور عوامی اعتماد کی تقویت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے کبھی اغیار کی طرف ہاتھ نہیں پھیلائے۔