Mar ۳۱, ۲۰۲۶ ۰۱:۲۷ Asia/Tehran
  • برطانیہ اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر

 برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور ان کا ملک اس میں شامل نہیں ہوگا۔

سحرنیوز/دنیا:غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اسٹارمر نے پیر کے روز شہر وولورہیمپٹن میں لیبر پارٹی کی مقامی انتخابی مہم کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق خبریں سن کر عوام میں تشویش بڑھنا فطری بات ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ ہماری نہیں اور ہم اس میں نہیں گھسیٹے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ منگل کو ایک بار پھر ہنگامی حکومتی اجلاس بلایا جائے گا جس میں جنگ کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت آج بھی شپنگ، انشورنس اور توانائی کے شعبوں کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی کیونکہ اصل تشویش سمندری راستوں اور توانائی کی منڈی پر اثرات سے متعلق ہے۔
اسٹارمر نے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔
انہوں نے جنگ کے آغاز سے ہی اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے اور واضح کیا کہ برطانیہ براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔ تاہم انہوں نے امریکا کو خطے میں برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی، جس پر ملک کے اندر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں خطے کے اتحادیوں اور صہیونی حکومت کے وزیر خارجہ سے رابطے کیے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات پر زور دیا ہے، جبکہ وزیر دفاع بھی خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔
برطانوی حکومت عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ صورتحال قابو میں ہے، لیکن توانائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم آفس کا کہنا ہے کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر کافی ہیں اور کسی قلت کا خطرہ نہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں اور کسی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں۔ تاہم ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث برطانیہ کی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر توانائی کی درآمدات پر انحصار کی وجہ سے مہنگائی اور گھریلو اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔

 

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس