یورپی حکومتوں خاص طور پر برطانیہ کو بڑے بینکوں کو ایران کے ساتھ تعاون کے لیے اطمینان دلانا چاہیے: حسن روحانی
-
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیراعظم تھریسا مے سے ملاقات کی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو، ایران اور دنیا کے ملکوں کے درمیان تعاون کے لیے بنیاد اور اختلافات کے حل کے لیے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔
صدر مملکت نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیراعظم تھریسا مے سے ملاقات میں کہا کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے اور جب تک مقابل فریق اپنے وعدوں کا پابند رہے گا تہران بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا۔
صدر مملکت نے کہا کہ جب تک بینکنگ اور انشورنس کے شعبے میں بعض ٹیکنیکل اور فنی مشکلات کو حل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مقابل فریق کے وعدے پورے نہیں ہوں گے اور یورپی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بڑے بینکوں کو ایران کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں اطمینان دلائیں، اس سلسلے میں برطانیہ اصلی قدم اٹھا سکتا ہے۔
صدر مملکت نے حالیہ برسوں کے دوران تہران اور لندن کے تعلقات میں بہتری اور فروغ آنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے تناظر میں تعاون پر توجہ مرکوز کرنے سے ماضی کی منفی ذہنیتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
برطانیہ کی وزیراعظم نے بھی حالیہ برسوں کے دوران سیاسی و اقتصادی میدانوں میں تعلقات فروغ پانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تمام میدانوں میں دو طرفہ تعلقات میں توسیع کی حمایت کی۔