Feb ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۷ Asia/Tehran
  • نئی امریکی پابندیاں سلامتی کونسل کی قرار داد کے منافی ہیں، ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کو ناجائز اور جامع ایٹمی معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتّیس کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ میزائل پروگرام کو ترقی دینا، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ایرانی عوام کا مسلمہ حق ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام خالص دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور یہ میزائل جو روائتی ہتھیار لے جانے کی غرض سے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جائز دفاع کے علاوہ کسی صورت میں بھی استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دفاعی معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت، عالمی ضابطوں کے منافی ہے لہذا کسی بھی ملک یا ادارے کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔
 بیان میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے ایرانیوں کے داخلے سے متعلق حکومت  امریکہ کے اسلام مخالف اقدامات کے جواب میں امریکی شہریوں کے لیے ویزے کا اجرا روک دیا گیا ہے، اسی طرح ایران، امریکہ کی نئی پابندیوں کا بھی ترکی بہ ترکی جواب دے گا۔
 بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران بھی امریکی پابندیوں کے جواب میں ایسے امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے خلاف قانونی پابندیاں عائد کرے گا جو خطے میں انتہا پسند گروہوں اور یا بے گناہ شہریوں کے قتل میں دہشت گردوں کی مدد کر رہی ہیں۔
 ایران کی وزارت خارجہ کے اس بیان میں اصول کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ملک کی سلامتی کا معاملے پر سودے بازی اور مذاکرات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت امریکہ کے غیر دانشمندانہ اور بچکانہ اقدامات، اسلامی جمہوریہ ایران کو خطے کی سلامتی اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے بنیادی اصول پر عمل درآمد سے باز نہیں رکھ سکتے۔
دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کے سربراہ پال رایان نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائے جانے عندیہ دیا ہے۔
 این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پال رایان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کو ایک بڑی غلطی تصور کرتے ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کے سربراہ نے کہا کہ  وہ سمجھتے ہیں جامع ایٹمی معاہدے کو منسوخ کرنے کا وقت ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے، ایران کے خلاف عائد کثیر فریقی پابندیاں ختم ہوچکی ہیں لہذا امریکہ کو ایران کے خلاف مزید اور موثر پابندیاں عائد کرنے کی فکر کرنا ہو گی۔
واضح رہے کہ ایران کے خلاف مخاصمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ نے پچیس افراد اور کمپنیوں کے نام ایران مخالف پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیئے ہیں۔
 ایران کے میزائل تجربات کو بہانہ بنا کر عائد کی جانے والی یہ پابندیاں، ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد تئیس اکتّیس کے منافی ہیں۔