May ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۵:۴۰ Asia/Tehran
  • سعودی عرب ایران کے خلاف حماقت کرنے سے گریز کرے۔ ایرانی وزیردفاع کا انتباہ

ایران کے وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دھقان نے سعودی نائب ولی عہدی اور وزیر جنگ محمد بن سلمان کے دھمکی آمیز بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہر طرح کے مخاصمانہ اور جارحانہ اقدام کی بابت سخت خبر دار کیا ہے۔

لبنان کے المنار ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دھقان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی بھی حماقت کا ارتکاب کیا تو مکہ و مدینہ کو چھوڑ کر سعودی عرب کا کوئی بھی شہر محفوظ نہیں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکام نخوت و غرور کے نشے میں دھت ہیں اور ایسے بیانات دے رہے جن کا انہیں خود بھی ادارک نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ حسین دھقان نے کہا ہے کہ سعودی حکام اسرائیل کو ایران کے خلاف اکسانے کے سوا کوئی اور کام کرنے کی توانائی نہیں رکھتے۔ایران کے وزیر دفاع نے اپنے اس انٹرویو میں جس کے بعض حصے نشر کیے گئے ہیں، یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودی حکام کی سوچ اس حدتک پست ہوگئی ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کی چاپلوسی پر بھی فخر کرنے لگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلی بار یمن کے خلاف جنگ مسلط نہیں کی ہے بلکہ وہ اس پہلے بھی تین بار یمنی عوام سے منہ کی کھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے عوام اس بار بھی اپنے ملک پر تکفیری نظریات کی حامل حکومت کو مسلط نہیں ہونے دیں گے۔دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی شہ پر ، خطے کے بعض اسلامی ملکوں کے خلاف مخاصمانہ اقدامات انجام دے رہا ہے۔مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مسعود جزائری نے سعودی عرب کے وزیر جنگ اور نائب ولی عہد کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو خطے کی کمزور حکومتوں کی دھمکیوں کا کوئی خوف نہیں ہے اور ہم نے خود کو بڑے دشمن کے مقابلے کے لیے آمادہ کر رکھا ہے۔قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے ناتجربہ کار وزیر جنگ اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان   نے دو مئی کو اپنے ایک انٹرویو میں ایران کے ساتھ مفاہمت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ وہ سعودی سرحدوں پر ہونے والی جنگ کو ایران کے اندر پہنچادیں گے۔