ایران کی جانب سے شام پر امریکی حملے کی مذمت
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جنوبی شام میں عام شہریوں پر امریکی جنگی طیاروں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
امریکی جنگی طیاروں نے اردن سے ملنے والے شام کے سرحدی علاقے بادیہ میں التّنف روڈ پر شامی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کر دیا جس میں متعدد عام شہریوں سمیت دسیوں افراد جاں بحق و زخمی ہو گئے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شام پر امریکی حملہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کی حیثیت سے ایک آزاد ملک کے قومی اقتدار اعلی اور شام کی ارضی سالمیت کے خلاف کھلی جارحیت ہے اور امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف یکطرفہ فوجی اقدام، تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کئے جانے کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس قسم کی جارحیت کا مقصد میدانی توازن تبدیل کرنا اور دہشت گردوں کو موقع فراہم کرنا ہے۔ بہرام قاسمی نے کہا کہ بے بنیاد بہانے سے کیا جانے والا یہ حملہ، علاقے میں امریکہ کی تباہ کن مداخلت کا ایک نمونہ اور اندرون و بیرون ملک امریکی حکام کی مشکلات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے وقت میں کہ شامی حکومت اور اعتدال پسند مخالفین نیز دیگر بااثر شامی فریق، کم کشیدگی والے علاقے قائم کر کے تعمیری مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکی حملے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانے مضبوط ہونے کا باعث بنیں گے۔