حکومت شام کی درخواست پر مشاورتی مشن روانہ کیاتھا ، ایرانی وزیر خارجہ
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i304999-حکومت_شام_کی_درخواست_پر_مشاورتی_مشن_روانہ_کیاتھا_ایرانی_وزیر_خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دمشق کی درخواست پر تہران نے مشاورتی مشن شام میں تعینات کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۰۱, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۳ Asia/Tehran
  • حکومت شام کی درخواست پر مشاورتی مشن روانہ کیاتھا ، ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دمشق کی درخواست پر تہران نے مشاورتی مشن شام میں تعینات کیا ہے۔

شام کا بحران سن دوہزار گیارہ میں سعودی عرب، امریکہ اور ان کے دیگر اتحادی ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں شروع ہوا تھا جس کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو اسرائیل کے حق میں جھکانا تھا۔ بحران شروع ہوتے ہی شام کی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دمشق کی مدد کرنے کی درخواست کی تھی۔اٹلی کے دارالحکومت روم میں انٹرنیشنل میڈیٹیرین ڈائیلاگ  سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے داعش، جبہت النصرہ اور طالبان سے جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی جارہی ہے اور یہ ممالک بدستور غلط راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک یہ سمجھ رہے ہیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کے بجائے وہ اسلحہ خرید کر سلامتی بھی خرید سکتے ہیں۔انہوں نے اس طرز فکر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہی مشرق وسطی کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے شام اور یمن میں امن اور جنگ بندی کی ساری پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔جامع ایٹمی معاہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اب تک کا سب سے بہترین مشترکہ معاہدہ ہے۔ایران کے وزیر خارجہ نے روم میں اپنے قیام کے دوران یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی سے بھی ملاقات اور اہم ترین علاقائی و بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ایران کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج نے اس ملاقات میں جامع ایٹمی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں عالمی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے روم پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران جامع ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا  بلکہ رہبر انقلاب اسلامی کی سفارشات کے مطابق اس معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار تیز کیے جانے کی ضرورت ہے۔