May ۰۴, ۲۰۱۹ ۱۵:۳۲ Asia/Tehran
  • بحرینی وزیر خارجہ کے بیان پر ایران کا سخت ردعمل

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفه کے حالیہ دھمکی آمیز بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بحرین کے وزیر خارجہ اور اس ملک کے دیگر حکام کو متنبہ کیا ہے کہ انھیں اپنے سے بڑے کو دھمکی دیتے وقت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بحرین کے وزیر خارجہ کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا کہ جب تک آبنائے ہرمز ہمارے عوام کے مفادات فراہم کر رہا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اس وقت تک آبنائے ہرمز کی عالمی توانائی کی منتقلی اور فراہمی کے راستے کی سیکورٹی اہم ترجیح بنے رہے گی۔

واضح رہے کہ بحرینی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احد آل خلیفہ نے گزشتہ روز الشرق الاوسط اخبار کے ساتھ انٹرویو میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ یہ خلیج فارس کے ممالک کے خلاف ایک واضح دھمکی ہے اور ہم ایران کو اس کی بندش کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ کہ ایران اگر آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے تو یہ خود اس کا اپنا کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہو گا۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بحرین کے وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بہت چھوٹے ہو کہ ایران جیسے بڑے اور عظیم ملک کے بارے میں لب کشائی کرو۔

دوسری جانب بحرین کی اسلامی تحریک کے رہنما نے ایک پیغام میں بحرین کے سیاسی ڈھانچے کی اصلاح کو اس ملک کی نجات کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین کا موجودہ سیاسی نظام  بنیادی طور پر بڑی پسماندگی جیسے مسئلے سے دوچار ہے۔

بحرین کی اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر اصلاح کا یقین بھی ہو جائے تو بھی سماج اور حکومت کے درمیان تعلقات و رابطے پر توجہ مرکوز کئے جانے کی ضرورت ہے اور اس ڈھانچے میں بھی حکمرانی کا اصل ذریعہ عوام کو ہونا چاہئے۔

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ بحرینی عوام کی تحریک ایک بنیادی مطالبے کی حامل ہے اور اس مطالبے کو منوانے کے لئے اس نے بہت بڑی قربانی بھی دی ہے اور وہ یہ کہ بحرینی عوام ملک میں جمہوریت کے خواہاں ہیں اور وہ اپنے اس موقف پر وہ بدستور قائم ہیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ بحرین میں مکمل اور حقیقی امن قائم ہو جائے گا اور اس ملک میں انسانی روابط کی حکمرانی ہو گی۔

بحرین کی اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے حال ہی میں عراق کے مقدس شہر نجف اشرف سے ایران کے مقدس شہر مشہد کا سفر کیا تھا۔

وہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی جانب سے بحرین کی شہریت سلب اور دو برس کی گھر میں نظربندی کی مشقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد علاج و معالجے کے لئے لندن روانہ ہوئے تھے اور پھر دسمبر دو ہزار اٹھارہ میں لندن سے عراق کے شہر نجف اشرف پہنچے تھے۔