Jul ۲۸, ۲۰۱۹ ۱۷:۳۴ Asia/Tehran
  • بیرونی طاقتوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے منافی ہے، صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی

صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے منافی اور تنازعات کی اصلی وجہ ہے۔

اتوار کو تہران میں عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عمان ہی آبنائے ہرمز کی سلامتی اور تحفظ کے اصل ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ بحیرہ عمان، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی جہاز رانی کے لیے پوری طرح سے محفوظ اور قابل اطمینان گزرگاہ رہے۔ 
صدر ایران کا کہنا تھا کہ ایران نے کسی موقع پر بھی دوسروں کے  ساتھ کشیدگی میں، نہ کبھی پہل کی ہے اور نہ آئندہ  کرے گا۔ 
صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی جڑیں ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی یک طرفہ علیحدگی اور ٹرمپ انتظامیہ کے من گھڑت تصورات کا نتیجہ ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے آبنائے جبل الطارق میں ایرانی تیل لے جانے والے بحری جہاز کی بندش کو برطانیہ کا غیرقانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں عالمی جہازرانی کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنے والے ہر اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے اس موقع پر مسقط تہران تعلقات کو دوستانہ اور برادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا خطہ اس وقت مصنوعی اور دوسروں کے پیدا کردہ بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ عمان سمجھتا ہے کہ خطے میں حقیقی اور پائیدار سلامتی کا حصول ایران کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
درایں اثنا ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی سے بات چیت کرتے ہو‏ئے عمان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی میں ایران کا کردار ناقابل انکار ہے لیکن افسوس کہ دنیا عقل و منطق سے خالی دکھائی دیتی ہے۔ 
یوسف بن علوی کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان کی اسٹریٹیجی خطے میں پائیدار امن پر استوار ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے تمام ممالک متاثر ہوں گے۔
ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اس موقع پر کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعے علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے خطے کے بعض ملکوں کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا کیونکہ ان کے موجودہ رویئے سے بدامنی مزید پھیل رہی ہے۔ 
ایران کے اسپیکر نے جنگ یمن کے خاتمے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہ کہا کہ یہ خطہ جنگ یمن کے مزید طول پکڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی اور یورپ کی عہد شکنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے درمیان برطانیہ نے بھی واشنگٹن کا ساتھ دیتے ہوئے، ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو آبنائے جبل الطارق میں روک لیا ہے جو بحری قزاقی اور عالمی قوانین کی خلاورزی ہے۔
یاد رہے کہ عمان کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل "علی شمخانی" کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں  جس میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل سمیت خلیج فارس کی سلامتی جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔