Feb ۱۰, ۲۰۲۶ ۱۹:۳۲ Asia/Tehran
  • ایران اور روس کی وزارت خارجہ کے درمیان سیاسی مشاورت ، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال

اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کی وزارت خارجہ کے درمیان مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کی تبدیلیوں کے بارے میں سیاسی مشاورت کا چوتھا دور تہران میں منعقد ہوا-

سحرنیوز/ایران:   اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے معاون وزیر اور مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر جنرل مہدی شوشتری اور روسی وزارت خارجہ کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے ڈائریکٹر جنرل الیگزینڈر کینشاک نے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور موجودہ مسائل پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ تعاون کے شعبوں کا جائزہ لیا۔

فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے خطے میں اہم اور حساس پیش رفت پر دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مشاورت اور تبادلۂ خیال کو تعمیری قرار دیا اور ان مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

 

ادھر اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ مغربی ممالک اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو ایران کے مسائل میں مداخلت کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

واسیلی نیبنزیا نے روسی نیوز ایجنسی تاس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مغربی ممالک کے مذموم منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایران جیسے ممالک کے اندرونی معاملات میں دباؤ اور مداخلت کرنا چاہتے ہیں-

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی واضح مثال گزشتہ ماہ سلامتی کونسل کا اجلاس تھا جو امریکہ کی درخواست پر منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے اندرونی حالات کے تناظر میں تہران پر الزامات لگانے پر توجہ مرکوز کی-

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

اس سینئر روسی سفارت کار نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکیاں اور ملک میں قانونی حکومت کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی کال دینا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے لیکن مغربی ممالک نے اسے نظر انداز کر دیا۔

روسی سفارتکار نبنزیا نے یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی کہا کہ یورپی ممالک یوکرین تنازعے کے حل کے عمل میں نہ تو کوئی تعمیری کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے دوہزار چودہ اور دوہزار بائیس کے مذاکرات میں یورپی فریق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں یوکرین کے بحران کو حل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس بنا پر موجودہ مذاکراتی عمل سے ان کو بے دخل کئے جانے پر انہیں احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

 

دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ نے بھی گذشتہ روز ماسکو میں والدائی انٹرنیشنل ڈائیلاگ کلب کی پندرھویں مشرق وسطی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مسئلے کا سفارتی اور پرامن حل موجود ہے اور فوجی اقدام کسی بھی ملک کی سلامتی کے مسائل کے حل کی ضمانت نہیں دے سکتا-

لاوروف نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کی طرح، اس تنازعے کے کچھ فریقین میں طاقت کا استعمال کرنے اور اپنے مخالفین کو تباہ کرنے کا وسوسہ ہے، لیکن یہ نقطہ نظر غلط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نقطہ نظر صرف مسائل میں اضافہ کرتا ہے اور کسی بھی طرح سے کسی بھی ملک کی سلامتی کو حل یا ضمانت نہیں دیتا ہے لہذا، ہم اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ موجودہ صورتحال ہمارے لئے پریشان کن ہے، اور ہم ایران کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

 

ٹیگس