بہت سی موجودہ خرافات کا پس منظر جانئے! ۔ ویڈیو
آجکل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو اور اسکی تائید میں کچھ ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں کورونا کے علاج کے تعلق سے امام زمانہ (عج) یا بعض دیگر معصوم ہستیوں کے تعلیم کردہ ایک خاص نسخے کا دعوا کیا گیا ہے اور وہ اس خرافاتی انداز میں کہ قرآن کریم کھولیں اور سورۂ بقرہ کی ورق گردانی شروع کریں تو کسی ایک صفحے پر جاکر ایک بال نظر آئے گا اور وہ بال معصوم ہستی کا ہوگا وغیرہ وغیرہ...، اس خرافات کی حقیقت کیا ہے، اس ویڈیو میں دیکھیں جس کا ترجمہ ہوبہو ذیل میں ذکر کیا گیا ہے۔
’’گفتگو کرنے والا شخص انقلاب اسلامی سے قبل ایران میں شاہی حکومت کی خفیہ ایجنسی ’’ساواک‘‘ کا ملازم تھا جو جیلوں میں انقلابیوں کو ٹارچر کیا کرتا تھا اور جلاد کے نام سے معروف تھا۔ اس شخص کو انقلاب کی کامیابی کے بعد گرفتار کیا گیا اور اس سے کچھ اعترافات لئے گئے جن کے بعض اقتباسات حاضر خدمت ہیں!‘‘
.............
...منجملہ وہ منصوبے جو موساد (اسرائیلی کی خفیہ ایجنسی) کے کارکنوں نے نفسیاتی جنگ کے ذیل میں ہمارے سپرد کئے تھے ان میں یہ بھی تھا کہ جس وقت انقلاب (اسلامی) ایران اکامیابی کی طرف بڑھ رہا تھا، اُس وقت ہماری ذمہ داری یہ تھی کہ لوگوں کے (مذہبی) عقائد کو تباہ کیا جائے۔ ساواک (ایران کی شاہی حکومت کی خفیہ ایجنسی) نے ماہان منصوبے سے موسوم اس سازش پر عمل کیا تاکہ لوگوں کے مذہبی عقائد کو کمزور کر سکیں۔ اس حد تک موساد (اسرائیل کی خفیہ ایجنسی) کے ساتھ ہمارے (ساواک) قریبی تعلقات تھے۔
ماہان سے موسوم منصوبہ تیار کرنے کا مقصد لوگوں کے عقائد اور انکی بنیادوں کو کمزور بنانا تھا تاکہ لوگ خرافات کے قائل ہو جائیں، انہیں تسلیم کرنے لگیں، پھر اسکے بعد چونکہ خرافات کو بڑی آسانی سے جھٹلایا جا سکتا ہے، عوام کے عقائد کی بھی اسی طرح سے با آسانی جھٹلا سکتے تھے اور انہیں کمزور بنا سکتے تھے۔
اس منصوبے پر جنرل ازہاری کی وزارت عظمیٰ کے دور میں کام کیا گیا۔اُس زمانے میں حکومت نے دو کروڑ تومان کا بجٹ پاس کر کے اسے ساواک کے حوالے کیا۔ ان دو کروڑ تومان کی رقم کا زیادہ تر حصہ مولوی اور عالم نما افراد پر صرف کیا گیا تاکہ وہ خرافات کو عام کر سکیں۔ یہاں تک کہ کچھ واقعات بھی گڑھے گئے منجملہ یہ کہ ایک عالم دین کا بھیس بنائے ہوئے ایک شخص نے خواب میں امام رضا (علیہ السلام) کو دیکھا اور آپؑ نے اس سے فرمایا کہ شاہ کی حمایت و حفاظت کرو، اسکی مدد کرو، شاہ کا ایران میں رہنا ضروری ہے۔
یا مثلا یہ کہ قرآن (کریم) سے بال کا نکلنا، سورہ بقرہ میں بال دکھائی دینا، اس طرح کہ جو بھی مخصوص دن میں، دن کے تین بجے کوئی قرآن کھولے تو سورۂ بقرہ میں اسے بال دکھائی دے گا، یا مثلا یہ کہ چاند میں امام خمینی (رح) کی تصویر کا دکھائی دینا۔
اس طرح کے تمام منصوبوں پر تہران بلکہ پورے ایران میں کام کیا گیا۔