ایران نے امریکی سفارتکاروں پر لگائی پابندی
اسلامی جمہوریہ ایران نے عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹیولر اور دو دیگر سفارتکاروں کو دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث ہونے اور انسانی حقوق کے اصول کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
جمعے کو جاری کئے گئے بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ تہران نے ٹیولر، بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے کے نائب سربراہ اسٹیو فیگن اور کونسل جنرل ایبل راب والر پر پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر علاقے میں امریکا کی دہشت گردانہ اور پر تشدد کاروائیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو 2017 میں ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور شدہ بل کے مطابق ہے۔
وزرات خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں امریکی سفارتکاروں نے ایرانی حکومت اور شہریوں کے مفاد کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دی ہیں یا اس میں موثر کردار ادا کیا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتکاروں نے داعش اور النصرہ فرنٹ جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی اور علاقائی ممالک کے خلاف دہشت گرد گروہوں کا استعمال کیا۔
واضح رہے کہ ایک دن پہلے ہی امریکا نے بغداد میں تعینات ایرانی سفیر ایرج مسجدی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجدی کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے لئے کام کرنے کی وجہ سے بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ مسجدی، جنرل قاسم سلیمانی کے قریبی مشیر تھے اور انہوں نے عراق میں سپاہ پاسداران کی پالیسیوں کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔