ایران اور پاکستان کی مشترکہ بحری مشقیں
ایران اور پاکستان کی بحریہ کے جوانوں نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں مشترکہ مشقیں انجام دی ہیں-
مشترکہ فوجی مشقوں کے ترجمان کیپٹن رضا شیبانی نے بتایا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد عسکری توانائیوں میں اضافہ اور دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان فوجی معلومات اور تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ بحری مشقیں خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے قیام کی غرض سے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل اور تعمیری تعاون اور ہم آہنگی کی علامت ہیں۔
کیپٹن شیبانی کا کہنا تھا کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں فضائی اور سمندری ٹرانسپورٹیشن اور پیسکس آپریشن انجام دیا گیا جس میں ایران اور پاکستان کی بحریہ کے جوان شریک تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ بحری مشقوں میں ایران کی جانب سے تباہ کن بحری جہاز البرز، میزائل بردار بحری جہاز، ہیلی کاپٹروں کے علاوہ پاکستان کی بحری بیڑے میں شامل، عسکری اور لاجیسٹک بحری جہازوں نے شرکت کی۔
مشترکہ بحری مشقوں کے ترجمان نے اس اسٹریٹیجک بحری علاقے کی طاقتور بحری افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے ذریعے علاقائی سیکورٹی میں اضافے سے، عالمی تجارت کی رونقوں میں بھی اضافہ ہوگا-
قابل ذکر ہے کہ ایران اور پاکستان کی بحریہ کے افسروں اور جوانوں نے باہمی تجربات کے تبادلے کی غرض سے، بندر عباس میں تعینات، ایک دوسرے کے بحری بیڑوں کا معائنہ بھی کیا تھا۔
اس موقع پر ایران کے ہیلی کاپٹر برداری بحری جہاز کے عرشے پر ایک ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانی اور ایرانی بحریہ کے افسروں اور جوانوں کے علاوہ تہران میں مقیم مختلف ملکوں کے فوجی اتاشیوں اور سفیروں نے بھی شرکت کی جن میں ، برازیل، یونان، یوکرائن، جرمنی، بلغاریہ، جمہوریہ چیک اور ہالینڈ کے فوجی اتاشی، جبکہ سوئزرلینڈ، اسلوینیا ، بولیویا، جمہوریہ چیک، اور برازیل کے سفرا بھی شامل تھے۔
پاکستانی بحریہ کا ایک فلیٹ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینے کی غرض سے، ہفتے کے روز ایران کے شہر بندر عباس میں واقع ایرانی بحریہ کے امامت ریجن میں لنگر انداز ہوا تھا۔
اس موقع پر ایرانی بحریہ کے فرسٹ زون کے کمانڈر جعفرتذکر اور دیگر افسران نے پاکستانی بحریہ کے فلیٹ کمانڈر خان محمود آصف اور پاکستانی بحریہ کے جوانوں کا استقبال کیا تھا۔