Aug ۲۷, ۲۰۱۵ ۱۸:۵۷ Asia/Tehran
  •  سلامتی کونسل پر شام کی نکتہ چینی

شام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی اور بےتوجہی کو ، داعش کی جارحانہ کاروائیاں جاری رہنے کا سبب قرار دیا ہے-

شام کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے مقابلے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدر آمد کے سلسلے میں اس کونسل کے ممبر ملکوں کی خاموشی اور بے عملی، عراق اور شام میں داعش تکفیری دہشت گردوں کے جرائم اور مظالم جاری رہنے کا باعث بنی ہے- شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں داعش دہشت گردوں کے جرائم جاری رہنے اور شام کے تاریخی اور قدیمی آثار اور مقامات کو تباہ کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ان جرائم کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی پر کڑی نکتہ چینی کی- اس بیان میں دہشت گردی سے متعلق قراردادوں خاص طور پر قرارداد نمبر اکیس سو ننانوے، کہ جس میں آثار قدیمہ کی حمایت پر تاکید کی گئی ہے، پر عملدرآمد نہ ہونے کو، داعش دہشت گرد گروہ کو جارحانہ کاروائیوں کی ترغیب دلانے کا عامل قرار دیا گیا ہے- واضح رہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران شام کے تاریخی اور قدیم تہذیبی اور مقدس آثار و مقامات کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور خاص طور پر تاریخی شہر تدمر میں تاریخی مساجد، اور کلیساؤں نیز ثقافتی آثار قدیمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے- شام کی وزرات خارجہ نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں سے مقابلے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اور اس کام میں شام کی مدد کرے-