بحرین: جیل میں تشدد کرنے والے پانچ اہلکار بری
Sep ۰۳, ۲۰۱۵ ۲۲:۲۵ Asia/Tehran
بحرین کی ایک عدالت نے حراست کے دوران ایذا رسانی کے پانچ ملزموں کو بری کر دیا ہے-
اطلاعات کے مطابق بحرین کی فوجداری عدالت نے ایک افسر سمیت سیکورٹی فورسز کے ان پانچ اہلکاروں کو بری کر دیا ہے جن پر حراست کے دوران ایک حکومت مخالف بحرینی کو ایذائیں دینے کا الزام تھا- یہ ایسی حالت میں ہے کہ جس شخص کو ایذائیں دی گئی تھیں وہ معذور ہو چکا ہے- بری کئے گئے پانچوں سیکورٹی اہلکاروں پر ایک اور کیس میں اسی طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جائے گا- فروری دو ہزار گیارہ میں آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف بحرینی عوام کا پرامن احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک اہم سیاسی شخصیات، حتی بچوں اور عورتوں سمیت، سیکڑوں بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور ان پر تشدد روا رکھا جاتا ہے- دریں اثنا بحرین کی ایک قانون کے میدان میں سرگرم کارکن زہرہ مہدی نے کہا ہے کہ اس وقت بحرینی جیلوں میں دو سو بیس سے لے کر دو سو تیس تک اسکولی بچے قید ہیں اور ان کو سالانہ امتحانات میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی ہے- ادھر سخت اور تشدد آمیز اقدامات کے باوجود بحرین میں پرامن عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے- بحرین کے دمستان علاقے میں لوگوں نے مظاہرہ کرکے سیاسی قیدیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے- مظاہرین نے سیاسی قیدیوں کے حق میں نعرے لگائے اور بحرینی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی- دوسری طرف العکر علاقے میں بھی احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں بحرینی پولیس نے آنسو گیس اور جنگی کارتوس استعمال کیے-