بحرین میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری کی کوئی علامت نظر نہیں آتی: بحرینی مخالفین
Sep ۱۴, ۲۰۱۵ ۱۷:۲۶ Asia/Tehran
بحرین میں آل خلیفہ کے مخالفین نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال میں بہتری کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی ہے-
مرآۃ البحرین ویب سائٹ نے بحرین میں آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کے مخالفین کے ڈیموکریٹیک قومی گروہوں کے مشترکہ بیان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی حالت بہتر ہونے کی اب تک کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی ہے- بحرینی حکومت کے مخالف گروہوں کے بیان کے مطابق سیاسی مخالفین کو بے پناہ پابندیوں اور سخت دباؤ کا سامنا ہے اور حکومت نے سیاسی گروہوں کے پانچ سابق اور ایک موجودہ سربراہ کو جیل میں ڈال رکھا ہے اور ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ آزادی ، جمہوریت اور عوامی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں- آل خلیفہ کے مخالف گروہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعیت وفاق ملی کے سربراہ شیخ علی سلمان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط ہیں اور جس عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا ہے اس میں انصاف کے بنیادی ترین اصولوں کا فقدان تھا- اس بیان میں آیا ہے کہ دو ہزار پندرہ کے اوائل سے اب تک بحرین میں ایک ہزار تین سو ستر سے زیادہ افراد گرفتار کر کے کال کوٹھریوں میں ڈالے جا چکے ہیں- بحرین کے سیاسی گروہوں کے بیان میں آیا ہے کہ بحرین میں مظاہروں پر پابندی ہے اور عوام کو کہیں بھی آزادی بیان کا حق نہیں ہے اور حکومت کسی طرح کے مظاہرے کی اجازت نہیں دیتی ہے- بحرین کے سیاسی گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت، مخالفین سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتی اور انسانی حقوق کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے-