Dec ۱۲, ۲۰۱۵ ۱۸:۰۶ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں نمائشی بلدیاتی انتخابات

سعودی عرب میں سنیچر کو نمائشی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے ، جس میں پہلی بار خواتین کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

سعودی عرب میں سنیچر کو نمائشی بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈالے گئے ، جس میں پہلی بار خواتین کو بھی حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو بنیادی ترین انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق شہری اور دیہی کونسلوں کی تین سو نشستوں کے لیے تقریبا چھے ہزار مرد امیدواروں کے مقابلے میں نو سو سعودی خواتین بھی میدان میں اتری ہیں۔

اگرچہ سعودی عرب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب خواتین نے ووٹ ڈالنے کےساتھ ساتھ دیہی اور شہری کونسلوں کے انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لیا لیکن شاہی خاندان کی پالیسیوں کے تحت، ملک کی بنیادی سرگرمیوں میں خواتین کے حصہ لینے پر اب بھی پابندی ہے۔ خواتین کے ڈرائیونگ کرنے ، تنہا سفر کرنے، حتی دفتری کاموں میں مشارکت، اجتماعی پروگراموں میں شرکت حتی طلاق کا حق، ایسے معاملات ہیں جن میں سعودی خواتین کو سخت قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے۔

اتنی کڑی پابندیوں کے تناظر میں اکثر سعودی خواتین کا خیال ہے کہ ان کے لیے اپنے بنیادی شہری حقوق کا حصول انتخابات میں حصہ لینے سےزیادہ اہم ہے۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سعودی خواتین نے انتخابات کا بائیکاٹ بھی کردیا ہے اور انہوں نے انتخابات میں شرکت کی اجازت دیئےجانے کو شاہی خاندان کا نمائشی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد شہری حقوق سے متصادم سرکاری اقدامات اور فیصلوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ سعودی خواتین کو مدتوں بعد رائےدہی کا حق ملا ہے لیکن اس ملک میں خواتین کے حقوق کی مکمل بحالی کے راستے میں لاتعداد مشکلات حائل ہیں۔ سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کے کار چلانےتک پر پابندی عائد ہے اور قرون وسطی جیسی یہ پابندی ، وہابی مفتیوں کے فتوؤں کے تحت عائد کی گئی ہے۔

کئی سعودی خواتین کو پچھلے چند ماہ کے دوران، کار چلانے کے جرم میں مہینوں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی ہے اور انہیں انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا۔

ملک کےسیاسی اور سماجی ماحول کو زیادہ سے زیادہ محدود رکھنے کے اقدامات اور بنیادی شہری حقوق کی پامالیوں نے ، دنیا والوں کے سامنے آل سعود حکومت کے حقیقی چہرے کو پہلے سے زیادہ نمایاں کردیا ہے۔

سعودی عرب میں موروثی شاہی نظام قائم ہے اور عوام کو ملکی امور میں کوئی کردار حاصل ہے اور نہ ہی قانون سازی میں انہیں حصہ دیا گیا ہے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ جمہوریت کی ظاہری علامتیں جیسے سیاسی جماعتوں کے قیام اور ان کی سرگرمیوں کی اجازت تو کجا ذرائع ابلاغ کی آزادی بھی ناپید ہے۔