Dec ۱۲, ۲۰۱۵ ۲۱:۱۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے

سعودی حکومت نے یمن پر اپنی جارحیت کے دوران وحشیانہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی سرکردگی میں یمن پر جارح اتحاد کے وحشیانہ حملے جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کے بحرانی حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں اور یمن کے محاصرے میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی اتحاد کے حملوں میں ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال زخمی یمنی شہریوں کے بدن پر جلنے کی غیر معمولی علامات کا باعث بنا ہے۔

المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کے طبی ذرائع نے سعودی اتحاد کے ہوائی حملوں میں زخمی ہونے والوں کے بدن پر جلنے کی غیرمعمولی اور خطرناک علامات کا مشاہدہ کیا ہے۔ جبکہ یمن میں دواؤں اور طبی وسائل کی قلت نے ان زخمیوں کے علاج معالجے کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ یمن پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری کے خلاف رائے عامہ نے شدید احتجاج بھی کیا ہے لیکن سعودی عرب اس احتجاج کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے یمن کے مختلف علاقوں پر اپنے حملے بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عرب نے بمباری کے ساتھ ساتھ یمن کا زمینی، ہوائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے جو یمن میں انسانی المیے کا باعث بنا ہے اور جس کی وجہ سے یمن کے عوام کو غذائی اور دیگر بنیادی ضروریات کی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ سعودی عرب اقوام متحدہ کی اپیلوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے انسان دوستانہ امداد کے حامل جہازوں کو یمن کے ساحل تک پہنچنے میں مختلف مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔

دریں اثنا العالم ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ بین الاقوامی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ محاصرہ جاری رہنے اور دوائیں اور غذائی اشیا کی شدید قلت کی وجہ سے یمنی عوام میں بھوک اورغذائیت کی کمی میں اضافہ ہوگیا ہے اور یمن کے بائیس میں سے دس صوبوں میں غذائی سلامتی کا فقدان ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق یمن کے تقریبا" ایک کروڑ پینتالیس لاکھ افراد کو سعودی عرب کی آٹھ ماہ کی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے غذائی اشیا کی سخت ضرورت ہے۔

دوسری طرف یمن کی ایک اہم صحافتی اور سیاسی شخصیت احمد الکبسی نے کہا ہے کہ یمنی عوام سعودی عرب کے انتقامی حملوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور محاصرہ اور حملے جاری رہنے کے سبب یمن کے اسپتال اور دیگر طبی مراکز زخمیوں اور بیمار افراد کا علاج معالجہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کو طبی ساز و سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے اور بجلی بھی اکثر منقطع رہتی ہے۔ یمن کی آبی وسائل کی وزارت نے بھی اعلان کیا ہے کہ سعودی جارحین نے یمن کے آبی ذخائر کو تباہ کردیا ہے اور پانی کی سپلائی کے نظام کو وسیع نقصان سے دوچار کیا ہے جبکہ بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق یمن کے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔