آیت اللہ باقر نمر کی شہادت پر عراقی رہنماؤں کا شدید ردعمل، بغداد میں سعودی سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبہ
سرکردہ شیعہ رہنما آیت اللہ نمر باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کے خلاف عراقی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بغداد میں سعودی سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عراق کی مجلس اعلائے اسلامی کے سربرہ سید عمار حکیم نے سعودی حکومت کے ہاتھوں آیت اللہ نمر باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ نمر کے عدالتی قتل سے سعودی عرب اور اس خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو گی۔ عراق کے سابق وزیراعظم اور حکومت قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ نمر کا خون سعودی حکومت کو بہا کر لے جائے گا۔
صدر گروپ کے رہنما مقتدی صدر نے بھی آیت اللہ نمر باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سعودی حکومت کا ایک اور مجرمانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سعودی حکومت کے مجرمانہ اقدامات کے خلاف شجاعانہ ردعمل ظاہرکریں۔
الدعو ۃ پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خلف عبدالصمد نے کہا کہ آیت اللہ نمر کو سزائے موت دینے کے سعودی حکومت کے لیے اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بغداد سے سعودی سفیر کو نکال کر سفارت خانہ بند کر دے۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس کے نائب سربراہ ابومہدی المہندس نےآیت اللہ نمر باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مجرمامہ فعل قرار دیا ۔