سلامتی کونسل بحران فلسطین کے حل کی طاقت نہیں رکھتی: غلام حسین دہقان
-
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے غلام حسین دہقانی
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے سلامتی کونسل کی کمزوری کو، فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کا عامل قرار دیا ہے-
ارنا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے غلام حسین دہقانی نے منگل کو سلامتی کونسل میں " مشرق وسطی اور فلسطین " کے زیر عنوان منعقدہ ایک اجلاس میں ناوابستہ تحریک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بحران فلسطین کے حل کی طاقت نہیں رکھتی اور غاصب صیہونی حکومت بلاکسی خوف و ہراس کے اپنی سامراجی اور غیرانسانی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے-
غلام حسین دہقانی نے مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کے جرائم گنواتے ہوئے غزہ کے غیرانسانی محاصرے، فلسطینیوں کے مکانات کو ڈھائے جانے، صیہونی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے، بیت المقدس میں اسلامی تشخص کو مٹانے اور فلسطینیوں کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا ذکر کیا اور ایک بار پھر ناوابستہ تحریک کی جانب سے اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی حمایت کرنے پر تاکید کی-
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے لبنان کی ارضی سالمیت کے خلاف اسرائیل کی بار بار جارحیت اور صیہونی حکومت کی جانب سے شام کی جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ باقی رکھنے کی مذمت کی-
غلام حسین دہقانی نے اقوام متحدہ میں صیہونی حکومت کے نمائندے کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کے الزام کے جواب میں کہا کہ اس طرح کے الزامات کا مقصد، مشرق وسطی میں تشدد اور انتہاپسندی کے اصلی عامل کی حیثیت سے اسرائیلی حکومت کی دہشت گردانہ اور مجرمانہ پالیسیوں اور اقدامات پر پردہ ڈالنا ہے-