Feb ۱۲, ۲۰۱۶ ۱۹:۳۲ Asia/Tehran
  • سعودی عرب اور ترکی کو شام کے صدر کا انتباہ

شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ شامی فوج ملک کے تمام علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرائے گی۔

فرانس پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے صدر بشار اسد کا کہنا تھا کہ شامی فوج ملک کے چپے چپے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاقائی بازی گروں کی مداخلت کے نتیجے میں شام کی آزادی کا عمل طویل اور اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ شام کے صدر نے اپنے ملک میں ترکی اور سعودی عرب کی فوجی مداخلت کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا تاہم خبردار کیا کہ شامی فوج غیر ملکی فوجوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو بھی سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شام پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات، سیاسی محرکات کے حامل ہیں۔ شام کے صدر نے حکومت فرانس کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کو دہشت گردی کی حمایت کی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ صدر بشار اسد نے کہا کہ وہ اپنے ملک میں جاری بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کئے جانے کی حمایت کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کے خلاف جنگ سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی صوبے حلب میں شامی فوج کے آپریشن کا اہم ترین مقصد ترکی کی سرحد سے دہشت گردوں کی رسد کا راستہ منقطع کرنا ہے۔