Feb ۱۴, ۲۰۱۶ ۱۹:۲۵ Asia/Tehran
  • سعودی عرب شام کے خلاف جارحیت کے لئے امریکی فرمان کا منتظر

سعودی حکومت شام پر زمینی جارحیت کے لئے امریکا کے فرمان کی منتظر ہے۔

ریاض سے موصولہ خبروں کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے ملک کی حکومت، شام میں زمینی فوج بھیجنے کے لئے تیار ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت اس تعلق سے امریکی اتحاد کے فیصلے کی منتظر ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، اپنی اسپیشل فورس شام میں حکومت کے مخالفین کا ساتھ دینے اور بقول ایشٹن کارٹر، داعش کے خلاف جنگ کے لئے شام روانہ کریں گے۔ اس درمیان سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس نے اپنے جنگی طیاروں کو ترکی کی انجرلیک فوجی چھاؤنی کے لئے روانہ کر دیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ریاض میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ جب بھی امریکی اتحاد کہے گا ریاض اپنی فوج شام روانہ کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ شام میں کتنے فوجی اور کتنی مدت کے لئے بھیجے گا۔ سعودی وزیر خارجہ نے دعوی کیا کہ بشار اسد اپنی بقا کے لئے روس سے مدد لے رہے ہیں لیکن بلاشبہ شام میں روس کو شکست ہو گی۔ انہوں نے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے فضائی حملوں پر بھی تنقید کی۔ واضح رہے کہ روس نے گذشتہ کئی مہینوں سے شامی حکومت کی درخواست پر شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے شروع کر رکھے ہیں جن کے دوران سعودی عرب، قطر، ترکی اور امریکا کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔