Feb ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۶ Asia/Tehran
  • متحدہ عرب امارات کے بیان پر عراق کا ردعمل

عراق کی عوامی رضاکار فورس کے خلاف متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ کے بیان پر عراق کے حکام، سیاستدانوں اور عوام نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد جمال نے اپنے ایک بیان میں عراق کی عوامی رضاکار فورس کے سلسلے میں متحدہ عرب امارت کے وزیر خارجہ کے بیان کو عراق کی سیکورٹی اور دفاع کے ادارے کی کھلی توہین قرار دیا۔ عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس ایک سرکاری ادارہ ہے جو حکومت کی نگرانی میں اور مسلح افواج کی زیرکمان اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر عوامی رضاکار فورس نہ ہوتی تو داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد اس وقت علاقے کے بہت سے ملکوں میں داخل ہو چکے ہوتے۔ عراقی پارلیمنٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے رکن خالد الاسدی نے بھی اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کے مداخلت پسندانہ بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی عوامی رضاکار فورس عراق کی مسلح افواج کی ہائی کمان کے حکم پر اور اس کی نگرانی میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زائد کا بیان عراق کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت ہے اور اس کا مقصد عراق کی صورت حال کو درہم برہم کرنا اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنا ہے۔ عراقی پار لیمنٹ میں سلامتی اور دفاع سے متعلق کمیٹی کے رکن اسکندر وتوت نے بھی متحدہ عرب کے امارات کے وزیر خارجہ کے بیان کو عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور عراقی حکومت سے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے سفیر کو ملک سے نکال دے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اپنے مداخلت پسندانہ بیان میں کہا ہے کہ عراق میں عوامی رضاکار فورس کی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں، جبکہ عراق میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عوامی رضاکار فورس کا کردار بہت ہی اہم ہے اور اس فورس نے عراق کے بہت سے علاقوں کو آزاد کرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔