یمن میں سعودی عرب کے خلاف مظاہرے
یمن کی نیشنل کانگریس پارٹی نے یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں کے خلاف وسیع عوامی مظاہروں کی اپیل کی ہے۔
المیادین ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ علی عبداللہ صالح نے یمن پر سعودی حملوں کو ایک سال پورا ہونے کے موقع پر یمنی عوام سے سنیچر کے روز یمن پر آل سعود کی مسلط کردہ جنگ کے خلاف وسیع مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ علی عبداللہ صالح نے کہا ہے کہ یمن پر گزشتہ ایک سال سے جارحانہ حملے ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں وسیع تباہی ہوئی ہے اور آل سعود حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کے بےگناہ عوام کے گھروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ یمن کی نیشنل کانگریس پارٹی اور تحریک انصاراللہ ریاض کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ انہوں نے جارحین کے مقابلے میں یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں منصور ہادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جس نے ملک میں بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سعودی حکومت نے علاقے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ اتحاد بنا کر اور امریکا کی مدد سے گزشتہ سال مارچ کے اواخر سے یمن پر وسیع حملوں کا آغاز کیا تھا اور ان حملوں کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔ سعودی حکومت نے یمن کے مفرور مستعفی صدر منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے کے مقصد سے ان حملوں کا آغاز کیا تھا جن میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں نیز لاکھوں یمنی بے گھر ہوئے ہیں۔ دریں اثنا یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ایک لیڈر عبدالسلام الجحاف نے دنیا کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد کے روز افزوں حملوں کے پیش نظر عالمی برادری کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ عبدالسلام الجحاف نے یمن سے متعلق مذاکراتی عمل کے بارے میں کہا کہ مذاکرات تحریک انصاراللہ کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں لیکن سعودی عرب مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے اور وہ ریاض سے وابستہ گروہوں کی حمایت کر کے یمن میں اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے کوشاں ہے۔