آل خلیفہ کے خلاف بحرینی عوام کے مظاہرے
سیکڑوں بحرینی شہریوں نے ملک پر مسلط خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے کئے ۔
دارالحکومت منامہ کے مغربی علاقے الدواز میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہونے والے اس مظاہرے میں شریک لوگ شاہی حکومت کے خلاف پرامن جدوجہد جاری رکھنے کاعزم ظاہر کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھےتھے جن پر سعودی فوجیوں کے انخلا، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کریک ڈاؤن کا سلسلہ بند کیے جانے کے مطالبات درج تھے۔
بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے انقلابی تحریک جاری ہے اور اس ملک کے عوام سعودی عرب کی حمایت یافتہ شاہی حکومت کے خاتمے اور جمہوری حقوق دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بحرین کی شاہی حکومت عوام کے جمہوری مطالبات پوری کرنے کے بجائے سعودی فوجیوں کے ساتھ مل کر عوامی تحریک کو دبائے کی کوشش کر رہی ہے جس کے دوران درجنوں بحرینی شہری شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
ادھربحرین کے علما نے جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ آل خلیفہ کے ایجنٹوں کی بدسلوکی اور ان کی توہین کئے جانے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔