برطانوی افسران، سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں
-
برطانیہ کے فوجی افسران، سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔
یمن پر سعودی حکومت کی فوجی جارحیت کے خلاف عالمی برادری کے غم و غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے ، برطانیہ کے فوجی افسران، بدستور سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دینے میں مشغول ہیں-
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ برطانیہ کے فوجی افسران، یمن کے خلاف گذشتہ ایک سال سے جاری سعودی عرب کے جارحانہ حملوں کے نتائج کو خاطر میں لائے بغیر سعودی فوجیوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں اور سعودی فوجی اس کا استعمال یمن کے نہتے عوام کے خلاف کر رہے ہیں- برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ ایسی حالت میں ہے کہ برطانیہ کے فوجی حکام نے بارہا دعوی کیا ہے کہ یمن پر حملوں کے لئے سعودی عرب کو ہدایات جاری کرنے یا اس ملک میں فوجی آپریشن اور اہداف کے انتخاب میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے-
در ایں اثنا یمن کے المسیرہ ٹی وی چینل نے کہا ہے کہ یمن کی تحریک انصاراللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے حامی ملکوں کی جانب سے یمن کے خلاف جاری جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی، آئندہ مذاکرات پر اثر انداز ہوگی- اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ یمن کے خلاف جارحیت بند کرانے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے-
واضح رہے کہ گذشتہ سال مارچ کے مہینے سے یمن پر جاری سعودی اتحاد کے حملوں میں بچوں اور عورتوں سمیت اب تک ساڑھے نو ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں- سعودی عرب نے یمن کے خلاف ان حملوں کا آغاز، اس ملک کے مستعفی صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے اور عوامی تحریک انصاراللہ کو کمزور کرنے کے مقصد سے کیا ہے- سعودی عرب، یمن کے نہتے عوام کے خلاف کلسٹرڈ بموں کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کر رہا ہے - اس جارح حکومت نے یمن میں حتی اسپتالوں اور عالمی خیراتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور اس ملک کی اسّی فیصد تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے-