دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی خاموشی پر شام کا ردعمل
شام نے دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف سلامتی کونسل کی خاموشی کو ہدف تنقید بنایا ہے-
ارنا کی رپورٹ کے مطابق شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئر مین کے نام دو علیحدہ علیحدہ خط میں دہشت گردوں کی جارحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اور دہشت گردی کے حامی ملکوں کے سلسلے میں دفاعی اقدامات کی روک تھام، شام کے عوام کے خلاف قتل و جارحیت کا سلسلہ جاری رہنے کا باعث بنی ہے-
ان دو خطوں میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے حامی ممالک، سعودی عرب، قطر اور ترکی مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے مذموم عزائم حاصل کرنے کے درپئے ہیں- شام کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں دہشت گردوں کے جرائم کی جلد از جلد مذمت کرے اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں اپنے فرائض پر عمل کرے- شام نے تاکید کی ہے یہ جرائم شام کی حکومت اور عوام کو، دہشت گردی سے مقابلے اور شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی راہ حل کے حصول میں، اپنے فریضے پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتے-
در ایں اثنا امریکہ ، فرانس، برطانیہ اور یوکرین نے سلامتی کونسل میں "جیش الاسلام" اور "احرار الشام" کے ناموں کو، دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے یہ ممالک ان گروہوں کو میانہ رو مخالفین کا نام دے رہے ہیں جس سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ ان ملکوں نے دہشت گردی سے چشم پوشی کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور وہ دہشت گردی سے مقابلے میں سنجیدہ بھی نہیں ہیں-
واضح رہے کہ پیر کو شام کے ساحلی صوبے لاذقیہ کے شہر طرطوس اور جبلہ میں ہونے والے خودکش حملوں اور کار بم دھماکوں میں سو سے زائد افراد جاں بحق اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔