جرمن قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی
افغان طالبان نے مزار شریف میں جرمن قونصل خانے کے قریب ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق مزار شریف میں جرمن قونصل خانے کے باہر بارود سے بھرے ایک ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور بتیس زخمی ہوگئے۔دوسری جانب مزار شریف اسپتال کے عہدیدار نور محمد فائز نے بتایا ہے کہ چار لاشیں اور ایک سو بیس زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔دھماکے کے حوالے سے کابل اور مزار شریف میں موجود جرمن حکام نے اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کی شب ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ قبول کرلی ہے۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ قندوز کے نزدیک ایک گاؤں پر نیٹو کے فضائی حملے کا انتقام ہے جس میں تیس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے دوران افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں بیالیس فی صد اضافہ ہوا ہے۔امریکی فوج اور طالبان کے حملوں کو افغان شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔